آسٹریلوی حکومت نے شہریوں سے ہتھیار واپس لینے کے قانون کی تیاری کر لی

سڈنی (22 دسمبر 2025): آسٹریلوی حکومت نے اپنے شہریوں سے ہتھیار واپس لینے کے لیے قانون تیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے آسٹریلیا میں اسلحہ رکھنے سے متعلق مجوزہ قوانین پر ووٹنگ کے لیے آج ایک بار پھر ریاستی پارلیمان کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جہاں آتشیں اسلحہ رکھنے پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

ریاستی پارلیمان میں پیش کیے جانے والے ان مجوزہ قوانین کے تحت اسلحہ رکھنے کے موجودہ ضوابط میں تبدیلی کی جائے گی۔ نئے اقدامات میں ایک فرد کے لیے اسلحہ رکھنے کی تعداد کو چار تک محدود کرنے کی شق شامل ہے۔ مجوزہ قانون سازی میں دہشت گردی کے کسی واقعے کے بعد عوامی اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق نکات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر کرس منس نے پارلیمنٹ کے بار صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کو مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم عوامی تحفظ کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی کے بعد بنگلہ دیش کے اور سیاسی رہنما بھارتی نشانے پر ، دہشتگردوں کی دھمکیاں

واضح رہے کہ آسٹریلوی حکومت نے حال ہی میں ایک نیشنل گن بائے بیک اسکیم کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ اسکیم 1996 کے پورٹ آرتھر قتلِ عام کے بعد سب سے بڑی گن بائے بیک اسکیم قرار دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا اعلان بونڈی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے ردعمل میں کیا گیا، جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق بونڈی بیچ پر پیش آنے والا یہ واقعہ 1996 کے بعد آسٹریلیا میں سب سے زیادہ جانیں لینے والا فائرنگ کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں اسلحہ رکھنے کے قوانین میں مزید سختی اور گن بائے بیک اسکیم جیسے اقدامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی فوجی افسران کرپشن میں ملوث ، لیفٹیننٹ کرنل گرفتار، کروڑوں برآمد

ریاستی پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران ان مجوزہ قوانین پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جب کہ حکومت کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ عوامی تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یہ قانون سازی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔

Scroll to Top