یوٹیوب کا اے آئی سے بنے فرضی چینلز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن

یوٹیوب نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے گئے غیر مستند اور فرضی مواد کے خلاف اپنی پالیسی پر عملدرآمد مزید سخت کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اے آئی سے تیار کی گئی کہانیوں پر مبنی متعدد چینلز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کے تحت ایسے چینلز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کم محنت سے، بڑے پیمانے پر، خودکار انداز میں تیار کردہ مواد شائع کر رہے تھے۔

اس پالیسی کے اثرات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، جہاں کم معیار اور بڑے پیمانے پر تیار کی گئی اے آئی کہانیوں پر مشتمل کئی چینلز کو ہٹا دیا گیا ہے یا ان کی مونیٹائزیشن ختم کر دی گئی ہے۔ ابتدائی اشاروں کے مطابق اس کارروائی کا مرکز وہ مواد ہے جس میں انسانی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہو یا جس میں کوئی اضافی تخلیقی یا معلوماتی قدر شامل نہ کی گئی ہو۔

پالیسی کے تحت خاص طور پر وہ چینلز زد میں آئے ہیں جو خودکار نظام کے ذریعے بڑی تعداد میں خبریں یا فرضی مواد شائع کر رہے تھے۔ اس کے برعکس، وہ چینلز جو اپنے مواد میں تعلیمی پہلو یا تخلیقی عناصر شامل کر رہے ہیں، ان پر اس اقدام کے اثرات نسبتاً کم دیکھے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیانیے کی جنگ میں فیصلہ کن کامیابی،پاکستانی ملی نغمہ بھارتی یو ٹیوب چینل پرنشر

گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے خودکار نظام کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث پلیٹ فارم پر ایسے فرضی مواد کی بھرمار ہو گئی تھی جنہیں تیار کرنے میں کم محنت درکار تھی۔ اگرچہ یہ طریقہ کار قلیل مدت میں مالی فائدہ دے رہا تھا، تاہم اس میں معیار کی پائیداری کا فقدان واضح ہوتا چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب نے ویڈیوز کی مختلف زبانوں میں ڈبنگ کا فیچر متعارف کرایا

مواد تخلیق کرنے والی کمیونٹی کے لیے حیرت اس فیصلے میں نہیں بلکہ اس بات میں تھی کہ یوٹیوب نے اس نوعیت کی ضروری پالیسی متعارف کرانے میں اتنا وقت کیوں لیا۔ اس تازہ پیش رفت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ محض خودکار نظام پر انحصار اب قابلِ عمل حکمتِ عملی نہیں رہا، اور پلیٹ فارم پر غیر مستند مواد کے لیے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

Scroll to Top