پہاڑی علاقوں میں دہشتگرد تنظیموں کی نوجوانوں کو ورغلانے کی سازشیں ایک بار پھر سامنے آگئیں، جہاں تعلیم اور بہتر مستقبل کے بہانے نوجوانوں کو شدت پسندی کی راہ پر ڈالا جاتا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشتگرد گروہوں نے نوجوان ذہنوں کو ہتھیار بنا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، اور پہاڑی علاقوں میں قائم ان کی آماجگاہیں نوجوانوں کے استحصال کا مرکز بنی رہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے انکشاف کیا کہ کئی نوجوان ابتدا میں تعلیم کے بہانے گھر سے نکلے، مگر بعد میں دہشتگرد تنظیموں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے۔
دہشتگرد غلام جان کے بھائی نے بتایا کہ غلام جان تعلیم کے لیے کراچی گیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا اور وہ ایک پہاڑی علاقے میں جا پہنچا۔ اہل خانہ کی جانب سے طویل تلاش اور کوششوں کے باوجود کوئی سراغ نہ ملا، بالآخر غلام جان کی شناخت ایک ہلاک دہشتگرد کے طور پر ہوئی، جس نے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سرحد پار سے دہشتگردی پر ضروری اقدامات کریگا،دفتر خارجہ کاافغان ڈپٹی سفیر کو انتباہ
اسی طرح دہشتگرد آصف کے والد نے اعتراف کیا کہ ان کا بیٹا تعلیم ادھوری چھوڑ کر دہشتگرد تنظیموں کا حصہ بن گیا تھا۔ والد نے بتایا کہ بے پناہ فریاد اور منت سماجت کے باوجود آصف نے گھر والوں کی بات نہ مانی اور رابطہ مکمل طور پر ختم کر دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیٹے نے شدت پسندی کی راہ میں رکاوٹ بننے پر اپنے والد کو گولی مار دینے کی دھمکی دی، جس سے خاندان خوف اور بے بسی کا شکار رہا۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشتگرد تنظیمیں منظم انداز میں نوجوانوں کو ذہنی طور پر استعمال کرتی ہیں، انہیں تعلیم اور مقصد کا جھانسہ دے کر دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں قائم تربیتی ٹھکانوں تک پہنچاتی ہیں۔ بعد ازاں یہی نوجوان تشدد اور شدت پسندی کا آلہ کار بن جاتے ہیں، جس کا انجام اکثر ہلاکت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور: ’ایف سی‘ ہیڈکوارٹر حملہ کیس میں تفتیش، دہشتگرد نیٹ ورک کی شناخت
ریاستی موقف بالکل واضح ہے کہ دہشتگردی کا راستہ اختیار کرنے والوں کا انجام تباہی، ہلاکت اور ان کے خاندانوں کے لیے شرمندگی اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں۔ سیکیورٹی اور سماجی حلقوں نے والدین اور معاشرے پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں پر کڑی نظر رکھیں، تعلیم کے نام پر ہونے والی مشتبہ سرگرمیوں سے آگاہ رہیں اور کسی بھی گمراہ کن عمل کی بروقت نشاندہی کریں تاکہ ایسے عناصر کے عزائم ناکام ہوں۔




