بنگلادیش میں پاکستان اور چین کا اثر بڑھ چکا،بھارتی وزارت خارجہ کا اعتراف

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنی ایک پارلیمانی رپورٹ میں بنگلادیش سے متعلق اہم نکات کا اعتراف کیا ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش کی نوجوان نسل بھارت کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں ڈھاکا میں پاکستان اور چین کا اثر و رسوخ بڑھ چکا ہے جبکہ بھارت کے لیے صورتحال تشویش ناک بنتی جا رہی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ بنگلادیش کی نوجوان نسل بھارت سے نالاں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش میں اب وہ حالات باقی نہیں رہے جو ماضی میں بھارت کے لیے سازگار تصور کیے جاتے تھے۔ ڈھاکا میں پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ایک اہم تبدیلی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قتل میں ملوث را ایجنٹوں کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے

رپورٹ میں بھارتی حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اپنی پالیسیوں میں بروقت اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو بھارت بنگلادیش میں “غیر متعلق” ہو سکتا ہے۔ کمیٹی نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور داخلی صورتحال بھارت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش میں عوامی لیگ کا اثر و رسوخ ختم ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنگلادیشی نوجوان، بنگلادیش کے قیام میں بھارت کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جو ایک نمایاں تبدیلی کے طور پر سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی کی نمازجنازہ آج بنگلا دیشی پارلیمنٹ کیساتھ پلازا میں اداکی جائیگی، ایک روزہ سوگ کا اعلان

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تمام عوامل حالات کو ایک نئے موڑ پر لے آئے ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارت کو 1971 کے بعد بنگلادیش میں سب سے بڑے اسٹریٹجک بحران کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں اس بحران کو بھارت کے لیے ایک غیر معمولی اور حساس مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔

Scroll to Top