صدرِ مملکت آصف علی زرداری چار روزہ سرکاری دورے پر عراق پہنچ گئے، جہاں بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر عراقی حکام نے ان کا استقبال کیا ۔
ان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔
دورے کے دوران صدرِ زرداری کی اعلیٰ عراقی قیادت سے ملاقا توں کا بھی امکان ہے، جن میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئے مختلف شعبوں بشمول تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم اور سکیورٹی کے امور زیرِ بحث آئیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صدرآصف علی زرداری نے کٹھن حالات میں قومی وحدت کا علم بلند رکھا،سردار تنویر الیاس
ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق یہ دورہ پاک – عراق تعلقات کو نئی جہت فراہم کرنے اور باہمی مفاد کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔
دورانِ پرواز صدرِ پاکستان نے اسلامی بھائی ملک ایران کے ساتھ یکجہتی اور دوستانہ تعلقات کا بھی اظہار کیا ۔ جیسے ہی ان کا طیارہ ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا، صدر زرداری نے ایران کے حکام کو خیرسگالی اور دوستی کا پیغام بھیجا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان ترکیہ کا سچا، قابلِ اعتماد اور کھرا اتحادی ہے : صدر رجب طیب اردوان
یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں علاقائی اتحاد اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے دورے دونوں ملکوں کے لیے اقتصادی مواقع اور سیاسی اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔




