اردوان

پاکستان ترکیہ کا سچا، قابلِ اعتماد اور کھرا اتحادی ہے : صدر رجب طیب اردوان

ترک صدررجب طیب اردوان نے پاکستان کو ترکیہ کا سچا، قابلِ اعتماد اور کھرا اتحادی قرار د ے دیا اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی مشترکہ تاریخ اور مضبوط برادرانہ رشتوں پر قائم ہے جو مستقبل میں مزید مستحکم ہوگی ۔

استنبول میں دفاعی صنعت سے متعلق ایک اہم تقریب سے خطاب کے دوران صدر نے کہا کہ 2028 تک ترکیہ کا ہدف دفاعی اور ہوابازی کی برآمدات کو 11 ارب ڈالر تک پہنچانا اور دنیا کے اولین 10 دفاعی برآمد کنندہ ممالک میں شامل ہونا ہے ۔

اپنی تقریر کے آغاز میں صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان سے تشریف لانے والے اعلیٰ سطحی وفد اور دفاعی صنعت سے وابستہ نمائندوں کو ویلکم  کہا۔

صدر اردوان نے کہا کہ آج دنیا میں صرف دس ممالک ایسے ہیں جو اپنے جنگی بحری جہاز خود تیار کرنے اور سمندر میں اتارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ترکیہ فخر کے ساتھ ان ممالک میں شامل ہے ۔

انہوں نے اس دن کو ترکیہ کی دفاعی صنعت کے لیے تاریخی قرار دیتے ہوئے ترک شپ بلڈنگ انڈسٹری اور استنبول شپ یارڈ کمانڈ کے کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس ملاقات میں ترک صدر اردوان کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے

ترک صدر نے پاکستان کے ساتھ مِلگیم منصوبے پر پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2018 میں پاکستان بحریہ کے لیے چار جنگی جہازوں کی تعمیر کا معاہدہ کیا گیا تھا ۔

پہلا جہاز PNS بابر مئی 2024 میں پاکستان کے حوالے کیا گیا جبکہ جدید آزمائشوں کے بعد دوسرا جہاز PNS خیبر بھی پاکستان بحریہ کے سپرد کر دیا گیا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تیسرے اور چوتھے جہاز کراچی شپ یارڈ میں تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں PNS بدر 2026 کے اختتام تک اور PNS طارق 2027 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو فراہم کیا جائے گا ۔

صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ اس وقت دفاعی برآمدات میں دنیا کا گیارھواں بڑا ملک ہے اور گزشتہ 11 ماہ میں دفاعی و ہوابازی برآمدات میں 30 فیصد اضافہ ہو کر یہ حجم 8.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ امن، استحکام اور انصاف کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔

Scroll to Top