ڈان گروپ کو 13 ماہ میں 86 کروڑ کے سرکاری اشتہارات ملے، وفاقی وزیر اطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ڈان میڈیا گروپ کو گزشتہ 13 ماہ کے دوران 86 کروڑ روپے کے سرکاری اشتہارات جاری کیے گئے، اور یہ تمام تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار آن ریکارڈ ہیں اور مکمل تفصیلات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک پوڈکاسٹ میں معتبر اخبار کے سرکاری اشتہارات کی بندش سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈان گروپ کو گزشتہ تیرہ ماہ میں مجموعی طور پر 86 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے گئے ہیں تو یہ ایک ریکارڈ شدہ حقیقت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اشتہارات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری کردہ اشتہارات شامل ہیں۔

پوڈکاسٹ کے دوران میزبان کے اس سوال پر کہ کیا حکومت کی جانب سے بیانیہ بنانے کے لیے کسی میڈیا گروپ کے اشتہارات بند کرنا درست طریقہ ہے، وفاقی وزیر اطلاعات نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈان میڈیا گروپ کو پچھلے تیرہ ماہ میں مختلف حکومتوں کی جانب سے، جن میں کچھ صوبائی اور کچھ وفاقی شامل ہیں، مجموعی طور پر 86 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے گئے، اور یہ تمام تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بالاکوٹ اور گردونواح میں برف باری کا سلسلہ جاری

عطاءاللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اشتہارات کی تقسیم میں یہ ممکن ہے کہ کسی ادارے کو زیادہ اور کسی کو کم اشتہارات ملیں، تاہم ہر ادارے کے لیے کارپوریٹ گورننس اور ایک سسٹینیبل ماڈل بھی موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ کسی ادارے کا مکمل انحصار صرف حکومتی اشتہارات پر ہو۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ڈان میڈیا گروپ ملک کا ایک بڑا میڈیا گروپ ہے اور اس کی پاکستان میں ایک تاریخ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تیرہ ماہ میں 86 کروڑ روپے کے اشتہارات لینے کے باوجود ادارے کی جانب سے ملازمین کو فارغ کیا جاتا ہے تو یہ اس ادارے کا اپنا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات کی مکمل بندش نہیں بلکہ مکمل انحصار بھی مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس، پی ٹی آئی کے غیر منصفانہ ٹرائل کے دعوے ثبوتوں کے ساتھ مسترد

واضح رہے کہ ڈان گروپ مالی بحران کا شکار ہے، ڈی ایس این جی آپریشنز ملک بھر میں بند کیے جا چکے ہیں، فیول الاؤنس بھی روک دیا گیا ہے، جبکہ ملازمین کے لیے کسی بھی وقت چھانٹیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتِ حال کی وجہ اشتہارات پر پابندی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top