افواج پاکستان کے بعد عدلیہ نے بھی خود احتسابی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے جعلی ڈگری کیس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں اس عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ثابت ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ دورانِ سروس قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے۔
جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سنایا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے پاس ایل ایل بی کی درست اور مستند ڈگری موجود نہیں تھی، جو جج کے عہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدلیہ میں شفافیت اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے جعلی تعلیمی اسناد رکھنے والا شخص اس منصب پر فائز نہیں رہ سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ٍڈی جی آئی ایس پی آر کی فیض حمید،عمران خان گٹھ جوڑ کی نشاندہی سچ ثابت ہوگئی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے کی باقاعدہ کاپی وزارتِ قانون کو ارسال کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ آئندہ کے لیے ضروری قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عدالتی نظام میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے طارق محمود جہانگیری کی جعلی ڈگری کیس سے متعلق فیصلے کے خلاف فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی درخواستیں بھی مسترد کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اپنے خلاف ڈگری تنازع سے متعلق کیس میں ہائی کورٹ کی کارروائی کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا تھا۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 9 دسمبر کو جاری ہونے والے 2 رکنی بینچ کے حکمنامے کے خلاف آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف دائر کی گئی رٹ درخواست قابل سماعت نہیں تھی، لہٰذا اس کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست میں جسٹس طارق جہانگیری نے استدعا کی کہ ان کے خلاف ہائی کورٹ میں دائر رٹ کو خارج کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:آج کا فیصلہ تاریخی ہے،فیض حمید نے پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر کے طور پرملک میں سازشیں کیں: عطا تارڑ
ذرائع کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری نے ہائی کورٹ کی کارروائی کو چیلنج کرنے کے لیے 3 سینیئر وکلا پر مشتمل قانونی ٹیم بھی تشکیل دی تھی، جس میں اکرم شیخ اور بیرسٹر صلاح الدین شامل تھے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی گزشتہ سماعت کے دوران جسٹس طارق جہانگیری نے بینچ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کی موجودگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد عدالتی حلقوں میں اس معاملے پر خاصی توجہ مرکوز ہو گئی ہے اور کیس کو ایک اہم آئینی نوعیت کا معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔




