مظفرآباد:محکمہ صحت عامہ آزادکشمیر نے وضاحت کی ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال کے نام صحت کارڈ کیلئے اس وقت تک باضابطہ طور پر تجویز یا منظور نہیں کئے گئے ہیں۔
محکمہ صحت عامہ آزادکشمیر نے وضاحتی اعلامیہ میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہیلتھ کارڈ کے پینل ہسپتالوں کی وائرل فہرست جعلی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق اور آزاد کشمیر وزراء صحت کی اہم ملاقات، PSDP منصوبوں پر تفصیلی گفتگو
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صحت سہولت کارڈ کے اجراء کے حوالے سے اس وقت آزاد جموں و کشمیر کے کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال کے نام باضابطہ طور پر تجویز یا منظور نہیں کئے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا اور بعض ذرائع سے گردش کرنے والی ہسپتالوں کی فہرستیں غلط، بے بنیاد اور فیک ہیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صحت سہولت کارڈ سے متعلق تمام انتظامی اور تکنیکی مراحل ابھی مکمل نہیں ہوئے، ہسپتالوں کے ناموں کی تجویز اور فائنل منظوری اس منصوبے کا آخری مرحلہ ہوتا ہے، جو تاحال مکمل نہیں کیا گیا۔
اس حوالے سے باضابطہ اعلان اور صحت سہولت کارڈ کی سہولیات کا افتتاح وزیر صحت آزاد کشمیر سید بازل نقوی، سیکرٹری صحت عامہ آزاد کشمیر بریگیڈیئر عامر رضا ٹیپو اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ آزاد کشمیر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد مشترکہ طور پر کریں گے۔
سرکاری اعلامیہ کے بعد صحت سہولت کارڈ کی سہولیات ریاست کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مرحلہ وار دستیاب ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر،حکمرانوں کی نااہلی، بجٹ مختص ہونے کے باوجود صحت کارڈبحال نہ ہوسکا
عوام سے گزارش ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور فیک لسٹوں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر 33ہسپتالوں کی فرضی فہرست وائرل ہے جسے لوگ جوق درجوق شیئر کررہے ہیں ۔
یہ بھی یاد رہے کہ آزادکشمیر حکومت کا صحت کارڈ بحالی کیلئے ابھی تک کسی انشورنس کمپنی سے معاہدہ ہی نہیں ہوا ہے جبکہ بجٹ میں حکومت نے 2ارب مختص کئے تھے جن میں سرکاری ہسپتالوں میں کارڈ کی سہولت دی جانی تھی۔




