سڈنی حملہ، بھارت کا جھوٹا پروپیگنڈا زمین بوس، عالمی میڈیا پر پاکستانی مؤقف کی تائید

سڈنی کے بونڈائی بیچ پر پیش آنے والے افسوسناک حملے نے جہاں دنیا کو ایک اور دہشتگردی کے واقعے سے ہلا کر رکھ دیا، وہیں بھارتی میڈیا کے پاکستان مخالف جھوٹے پروپیگنڈا بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ حقائق سامنے آنے کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پھیلایا گیا الزام تراشی پر مبنی بیانیہ زمین بوس ہو گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، آسٹریلیا کے بونڈائی بیچ پر یہ حملہ شام 6 بجکر 47 منٹ پر ہوا، جس میں فائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ واقعے کے فوراً بعد آسٹریلوی پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا، تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے قبل بھارتی میڈیا نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم شروع کر دی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے بغیر کسی تصدیق کے حملہ آوروں کو پاکستانی شہری قرار دیا، جبکہ گودی میڈیا اور بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اسی مہم کے تحت بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے آسٹریلیا میں مقیم ایک بے گناہ پاکستانی شہری کی تصاویر بھی وائرل کر دیں۔

بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے مذکورہ شخص کو نوید اکرم کے نام سے منسوب کرتے ہوئے اسے دہشتگرد قرار دیا، جس سے نہ صرف اس کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا۔ بعد ازاں غیر ملکی جریدے ‘دی گارڈین’ نے بھارتی میڈیا کے اس جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے حقائق سامنے لائے۔

بے گناہ نوید اکرم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر کے اس کی جان کو شدید خطرے میں ڈال دیا گیا اور وہ اس جھوٹے الزام تراشی کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔

یہ بھی پڑھیں: سڈنی حملے میں ملوث بھارتی دہشت گرد ساجد اکرم کا پاسپورٹ منظر عام پر آگیا

16 دسمبر کی صبح سامنے آنے والی تحقیقات میں واضح ہوا کہ حملہ آور ساجد اکرم بھارتی شہری تھا اور اس کا تعلق بھارتی شہر حیدرآباد سے ہے۔ آسٹریلوی پولیس کی تحقیقات کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی اپنے جھوٹ اور حملہ آور کے بھارتی ہونے کا اعتراف کیا۔

یہ بھی پڑھیں:سڈنی واقعہ کے ملزم ساجد کا تعلق حیدرآباد سے تھا، انڈین پولیس کی تصدیق

اس افسوسناک واقعے نے ثابت کر دیا کہ سڈنی حملے میں پاکستان پر لگایا گیا ہر الزام غلط اور بے بنیاد تھا۔ سچ سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین نے کہا کہ بھارتی سوشل میڈیا کی یہ مہم یہ ظاہر کرتی ہے کہ بعض ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اور علاقائی مقاصد کے لیے پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے سچ اور مشترکہ عزم کے ساتھ آگے بڑھے تاکہ بے گناہ افراد کو نشانہ بننے سے بچایا جا سکے۔

Scroll to Top