نیویارک:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ مزید ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات پر سفر کرنے والے افراد پر بھی امریکہ میں داخلے کی مکمل پابندی نافذ ہو گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان پابندیوں کا بنیادی مقصد امریکہ کی سلامتی کا تحفظ ہے، جبکہ ان پر عملدرآمد یکم جنوری سے شروع ہو گا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرونِ ملک سکریننگ اور جانچ کے نظام میں موجود ناکامیوں کے باعث سفری پابندیوں میں توسیع ضروری تھی۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان اقدامات کا نفاذ ناگزیر ہو چکا تھا۔
اعلامیے کے مطابق برکینا فاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور شام کے شہریوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے جاری کردہ پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے لاؤس اور سیرا لیون کو بھی مکمل پابندی کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، جہاں اس سے قبل جزوی پابندیاں نافذ تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سڈنی حملہ خوفناک، حملہ آور کو روکنے والا شخص بہادر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے تحت مکمل پابندی کی فہرست میں شامل ممالک میں افغانستان، برکینا فاسو، برما، چاڈ، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لاؤس، لیبیا، مالی، نائجر، جمہوریہ کانگو، سیرا لیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام افراد بھی اس پابندی کی زد میں آئیں گے جن کے پاس فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات موجود ہیں۔
جزوی پابندیوں کی فہرست میں انگولا، انٹیگوا اور باربوڈا، بینن، برونڈی، کوٹ ڈی آئیوری، کیوبا، ڈومینیکا، گبون، گیمبیا، ملاوی، موریطانیہ، نائیجیریا، سینیگال، تنزانیہ، ٹوگو، ٹونگا، وینزویلا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی وزیراعلیٰ کی اوچھی حرکت پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سخت مذمت
خصوصی کیس کے طور پر ترکمانستان کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ تارکینِ وطن کے لیے پابندیاں برقرار رہیں گی، تاہم غیر تارکینِ وطن ویزوں کے لیے یہ پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔




