مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیراعظم آزادکشمیر و پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ بہار کے وزیراعلی کی جانب سے مسلمان خاتون کا حجاب اتارنے کی کوشش پر او آئی سی کو نوٹس لینا چاہیے یہ سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔۔
حکومت پاکستان معاملہ سلامتی کونسل سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر اٹھاے مسلمان اس وقت ہندوستان کے اندر مظلوم ترین کیمونٹی بنتے جارہے ہیں ان کی جائیددادیں تباہ کاروبار ختم اور ان پر بے بنیاد مقدمات درج کرکہ انہیں تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔۔
ہندوستان کا اصل نشانہ پاکستان ہے۔۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھر کے سامنے ہندوستان کا اصلی چہرہ بے نقاب کیا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پہلے ہی دن بھارت کو شکست ہوگئی تھی سابق وزیرِ اعلیٰ پرتھوی راج چوہان کا اعتراف
ہندو انتہا پسند کہتے ہیں پاکستان ہندوستانی مسلمانوں کا کعبہ ہے اس لئے وہ ہمارے خلاف مصروف عمل ہیں یہ مودی امت شاہ اور دیگر کی ایک منظم سازش ہے جس پر وہ کئی عرصہ سے عمل پیرا ہیں ۔۔
ہندوستان کے اندر ایک سوچ پیدا کی جارہی ہے بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کو اس ملک سے بیدخل کیا جاے واقعہ سڈنی میں ہوتا ہے لیکن ہندوستانی میڈیا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے بین الاقومی سطح پر موثر سفارتکاری کے ذریعے اس کابھرپور جواب دیا جائے۔۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک نے بین الاقوامی سطح پر شاندار پذیرائی حاسل کی ہے میں نے گزشتہ روز ان سے ہونے والی ملاقات کے دوران بھی گزارش کی تھی کہ مسلمانوں پر ہندوستان کے اندر زندگی تنگ کر دی گئی ہے اس کے خلاف پاکستان ہی آواز اٹھا سکتا ہے۔۔
قانون ساز اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ مجھے یہ دکھائی یہ دیتا ہے مسلم کیمونٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں ۔
حکومت پاکستان تمام بین الاقوامی فورمز پر یہ معاملہ اٹھاے امت شاہ،مودی اور نتیش کماز بھی اب اس میں شامل ہوگیا ہے اس میں آسام،اتر پردیش کے وزیراعلی بھی شامل ہیں،۔۔
ہندوستان میں مساجد کو گرایا جارہا ہے مسلمان ایک مظلوم ترین کیمونٹی بن چکا ہے یہ ایک منظم سوچ کے تحت کیا جارہا ہے یہ انشاء اللہ ہندوستان کے ٹوٹنے کی بنیاد بنے گا اس طرح کے واقعات کو چھپایا نہیں جاسکتا بہار کی اسمبلی میں انیس اراکین مسلمان ہیں ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔




