پاکستان میں آن لائن خریداری کیوں محدود ہے؟گیلپ سروے کی تفصیلی رپورٹ

گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے تازہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت گزشتہ چھ ماہ کے دوران آن لائن خریداری سے دور رہی۔ سروے کے مطابق 91 فیصد افراد نے اس مدت میں کوئی بھی آن لائن خریداری نہیں کی، جبکہ صرف 8 فیصد افراد نے بتایا کہ انہوں نے کچھ نہ کچھ آن لائن خریدا۔ ایک فیصد افراد نے اس سوال پر کوئی رائے نہیں دی۔

گیلپ سروے کے یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر ای کامرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود پاکستان میں آن لائن خریداری کا رجحان اب بھی محدود سطح پر موجود ہے۔ نجی نیوز چینل کو حاصل گیلپ سروے کی دستاویزات کے مطابق پاکستانی صارفین کی جانب سے آن لائن خریداری میں عدم دلچسپی کی ممکنہ وجوہات میں انٹرنیٹ تک محدود رسائی، ادائیگی کے نظام پر کمزور اعتماد اور آن لائن فراڈ کے خدشات شامل ہیں۔

یہ سروے 17 نومبر سے 2 دسمبر 2025 کے دوران ملک کے شہری اور دیہی علاقوں میں 961 افراد سے ٹیلی فون کے ذریعے کیا گیا۔ سروے کا اعتماد کا معیار 95 فیصد جبکہ غلطی کا امکان 2 سے 3 فیصد بتایا گیا ہے۔ گیلانی ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ تحقیق گیلپ انٹرنیشنل کی پاکستانی شاخ نے مرتب کی، جس کا مقصد عوامی رجحانات اور سماجی رویوں کا جائزہ لینا تھا۔

سروے کے بعد نجی نیوزچینل نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا پاکستانیوں کا آن لائن خریداری پر عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔ اس حوالے سے گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے بتایا کہ اگر پاکستان میں 8 یا 9 فیصد لوگ بھی آن لائن خریداری کر رہے ہیں تو آبادی کے تناسب سے یہ تعداد کروڑوں افراد پر مشتمل بنتی ہے۔ ان کے مطابق، “یہ تعداد بہت سے ملکوں کی مکمل آبادی سے بھی زیادہ ہے، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ای کامرس موجود ہے اور اپنی آبادی کے تناسب سے ترقی بھی کر رہی ہے۔”

بلال گیلانی نے واضح کیا کہ موجودہ معاشی حالات، قوتِ خرید میں کمی اور مہنگائی وہ بنیادی عوامل ہیں جو عوام کے مجموعی رجحان کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں پہلے سے ہی گروسری اسٹورز کا ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے، جہاں اوسطاً ہر دس گھروں کے لیے ایک دکان دستیاب ہے، جس کے باعث لوگ اپنی روزمرہ ضروریات قریبی مارکیٹ سے ہی پوری کر لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فوڈ پانڈا سمیت کئی آن لائن پلیٹ فارمز کی رسائی محدود شہروں تک ہے، جو ملک کے ہر حصے تک نہیں پہنچ پاتی۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن شاپنگ کرنیوالے ہو جائیں ہوشیار، خطرے کی گھنٹی بج گئی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زیادہ تر صارفین اب بھی کیش آن ڈیلیوری کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انہیں آن لائن ادائیگی اور پروڈکٹ فراڈ کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل مارکیٹ تک مکمل رسائی بھی عام نہیں ہو سکی۔ بلال گیلانی کے مطابق پاکستان میں ای کامرس کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم کی ضرورت ہے تاکہ خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان کے معروف ای کامرس ماہر اور ای ٹی اے پی ایس کے سی ای او محمد نافع نے بتایا کہ پاکستان میں آن لائن خریداری کے رجحان میں نہ تو نمایاں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی کمی، بلکہ یہ کافی عرصے سے جمود کا شکار ہے۔ ان کے مطابق عوام کو آن لائن فراڈ کا مسلسل خدشہ رہتا ہے، اسی لیے وہ اشیا خود جا کر خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھی تک کوئی سینٹرلائزڈ ای کامرس سسٹم موجود نہیں، جبکہ دیگر ممالک میں ای کامرس کے لیے لائسنسنگ، قواعد و ضوابط اور صارفین کے حقوق سے متعلق واضح نظام موجود ہوتا ہے۔

ای کامرس ایسوسی ایشن پاکستان کے فاؤنڈنگ ممبر ارزش اعجاز نے کہا کہ پاکستان میں فزیکل شاپنگ ایک ثقافتی سرگرمی ہے، جسے لوگ پسند بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا جیسے ممالک میں مصروف زندگی کے باعث لوگ گھر بیٹھے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میں لوگ باہر نکل کر خریداری کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آن لائن ریٹیل کا مجموعی ریٹیل مارکیٹ میں حصہ انتہائی کم ہے اور ملک کی 40 فیصد آبادی آن لائن موجود ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:200 روپے کے پرائز بانڈ کی دسمبر 2025 قرعہ اندازی کا اعلان!

ای کامرس سے وابستہ معروف آن لائن برانڈز چلانے والی بزنس وومن فرح آغا کے مطابق یہ مسئلہ صرف آن لائن خریداری تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر قوتِ خرید میں کمی کی وجہ سے مختلف شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں آن لائن خریداری کے رجحان کو متاثر کرنے والے عوامل میں برانڈز کی ناقص کوالٹی سے متعلق صارفین کے تحفظات بھی شامل ہیں۔

Scroll to Top