راولپنڈی: پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھارتی پراکسی دہشت گرد تنظیم فتنہ الخوارج کے خلاف دو الگ الگ کارروائیوں میں 13 دہشت گرد ہلاک کر د ئیے ہیں ۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے تحت انجام دی گئی ہیں تاکہ دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں اور منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے ۔
ضلع مہمند میں ہونے والے پہلے آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 7 دہشتگرد مارے گئے ۔
بیان کے مطابق ہلاک شدگان فتنہ الخوارج کے رکن تھے اور علاقے میں مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاک آرمی کسی بھی قسم کے فتنہ یا انتشار کو برداشت نہیں کرے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
ضلع بنوں میں ایک اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران مزید 6 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس آپریشن کا مقصد بھی دہشتگردوں کے چھپے ہوئے ٹھکانوں کو تباہ کرنا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا تھا ۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں ممکنہ دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
ترجمان فوج نے کہا کہ وژن “عزم استحکام” کے تحت سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گی تاکہ ملک میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
یہ کارروائیاں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی اس عزم کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ہر ممکن حد تک دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور عوام کی حفاظت کے لیے سرگرم رہیں گے۔




