مظفر آباد،تاریخی بارہ دری قبضہ مافیا سے محفوظ نہ رہی،ریکارڈ میں بھی ردوبدل کا انکشاف

مظفرآباد( کشمیر ڈیجیٹل/شجاعت میر) آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آبا کا مشہور و تاریخی مقام بارہ دری پر قبضہ مافیا قابض ،تاریخی ورثے پر پڑے مرغیوں کے پنجرے نے تمام محکموں کی کارکردگی کی پول کھول دی۔

تفصیلات کے مطابق مظفر آباد کا مشہور تاریخی مقام بارہ دری جو دریائے نیلم اور دریائے جہلم کے سنگم پر واقع ہے ،یہ مقام اپنی خوبصورتی، تاریخی اہمیت اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے سیاحوں کیلئے بہت پر کشش تھا ۔

بارہ دری قدیم عمارت ہے جسے مغل دور کے طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا تھا،اس کا نام ’’بارہ دری‘‘ اس کے مخصوص تعمیراتی طرز کی وجہ سے رکھا گیا تھا ،یہ پرامن سیاحتی مقام ہے جہاں لوگ دریاؤں کے سنگم کا نظارہ کرنے آتے تھے۔

بارہ دری نہ صرف تفریحی مقام ہے بلکہ مقامی لوگوں کیلئے ثقافتی علامت بھی تھا تاریخی ورثہ پر بھی قابض مافیا کا راج ہے،رنبیر سنگھ کی قائم کردہ تاریخی بارہ دری پر قبضے کا سلسلہ آہستہ آہستہ جاری ہے۔

قبضہ مافیا کے بعد سرکاری محکموں نے بھی اپنا حصہ وصولنا شروع کر دیا۔موجودہ وقت میں بارہ دری میں مرغیوں کے پنجرے پڑے ہیں اور کمرے بھی بنائے گئے ہیں جو انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور ملی بھگت کا ثبوت ہے۔

یاد رہے سابق کمشنر سردار وحید کے دور میں بارہ دری کے رقبے کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جن کا تبادلہ کرادا گیاتھا ۔سردار وحید کا تبادلہ ہونے کے بعد قبضے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ حتی کے قبضہ مافیا نے محکمہ مال کے ریکارڈ میں بھی بارہ دری کے رقبے کی توڑ پھوڑ کروا ڈالی ہے۔

تاریخی ورثے کے اہم کیس کی تحقیقات اینٹی کرپشن سمیت دیگر محکمے  بھی کر رہے ہیں۔محکمہ آثار قدیمہ، محکمہ سیاحت اور محکمہ مال قدیمہ ورثہ کو بچانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جہلم ویلی میں سی ایم ایچ کا قیام عمل میں لایا جائے، ڈاکٹر مشتاق

Scroll to Top