کوہاٹ: پاکستان تحریک انصاف کے کوہاٹ میں منعقد ہونے والے جلسے کے دوران مبینہ طور پر سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال نے سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آمد سے قبل انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں کی صفائی اور گزرگاہوں کو بہتر بنانے کے خصوصی اقدامات کیے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق پی ٹی آئی کے جلسے سے قبل مختلف شاہراہوں اور مرکزی راستوں پر سرکاری مشینری استعمال کی گئی، سڑکوں کی صفائی کی گئی اور راستوں کو ہموار کیا گیا۔ اس حوالے سے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جن میں صفائی عملہ اور سرکاری گاڑیاں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
علاقہ مکینوں اور عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ ’پی ٹی آئی کوہاٹ جلسے کے لیے بھرپور سرکاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں‘ اور یہ اقدامات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آمد سے قبل کیے گئے تاکہ جلسے کے انتظامات کو بہتر دکھایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ریلی نے پی ٹی آئی کی سیاسی حقیقت بے نقاب کر دی: طلال چوہدری
خیبر پختونخوا حکومت اس سے قبل متعدد مواقع پر یہ اعلان کر چکی ہے کہ ’جلسے، جلوسوں اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے‘۔ تاہم کوہاٹ جلسے سے قبل سامنے آنے والی ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات نے ان دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
عوامی رائے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر سرکاری وسائل واقعی سیاسی جلسوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں تو یہ حکومتی دعوؤں کے خلاف اور شفاف طرزِ حکمرانی کے اصولوں کے متصادم ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے پر وضاحت دیں تاکہ بے چینی دور کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:فیض حمید بانی پی ٹی آئی کیخلاف گواہی دینے جا رہے ہیں، فیصل واوڈا کا دعویٰ
تاکنون پی ٹی آئی یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زیر بحث ہے اور مختلف حلقے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔




