اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے 5 رکنی ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل طبی بورڈ نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ جیل حکام کی درخواست پر قائم کیے گئے اس میڈیکل بورڈ نے عمران خان کے متعدد ٹیسٹ، جسمانی معائنہ اور اہم اسکریننگ مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ تیار کرنا شروع کر دی ہے۔
میڈیکل ٹیم دوپہر کے وقت سخت سیکیورٹی میں جیل پہنچی، جہاں جیل انتظامیہ نے ڈاکٹرز کو بریفنگ دی اور معائنے کے لیے تمام انتظامات فراہم کیے۔ ٹیم نے تقریباً ایک گھنٹہ جیل میں قیام کیا اور بانی پی ٹی آئی کی مجموعی صحت، میڈیکل ہسٹری، موجودہ علامات اور پچھلے علاج کا تفصیلی جائزہ لیا۔
پمز اسپتال کی ٹیم میں سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر کے علاوہ جنرل فزیشن ڈاکٹر علی عارف، جنرل سرجن ڈاکٹر طارق عبداللہ، ماہرِ پیتھالوجی ڈاکٹر سمن وقار، ماہرِ جلد (ڈرمٹولوجسٹ) ڈاکٹر مبشر اور لیب ٹیکنیشن نعمان اقبال شامل تھے۔ جیل ذرائع کے مطابق، ڈاکٹرز نے عمران خان کے بلڈ پریشر، شوگر لیول، وزن، پھیپھڑوں، جلد، جوڑوں اور مجموعی فٹنس کا جائزہ لیا جبکہ متعدد لیبارٹری ٹیسٹ بھی کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بیانات پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا اعتراف سامنے آگیا
جیل انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ پمز ٹیم اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کر رہی ہے۔ رپورٹ میں عمران خان کی صحت سے متعلق مکمل میڈیکل اسٹیٹس، مزید علاج یا ٹیسٹ کی سفارشات اور جیل میں فراہم کیے جانے والے میڈیکل انتظامات کے حوالے سے رہنمائی شامل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ اگلے چند دنوں میں اڈیالہ جیل حکام کو بھیج دی جائے گی، جو اسے متعلقہ سرکاری اداروں تک پہنچائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل حکام نے چند روز قبل پمز اسپتال کو بانی پی ٹی آئی کے مکمل طبی معائنے کی درخواست کرتے ہوئے خط لکھا تھا۔ یہ درخواست عمران خان کی صحت کے حوالے سے ابھرنے والی چند تشویشوں کے بعد کی گئی تاکہ ان کی صحت کی صورتحال کا درست اور جامع جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور ریلی نے پی ٹی آئی کی سیاسی حقیقت بے نقاب کر دی: طلال چوہدری
میڈیکل ٹیم معائنہ مکمل کرنے کے بعد جیل سے واپس روانہ ہو گئی۔ پمز کے ذرائع کے مطابق، تمام ڈاکٹرز نے معائنہ میں مکمل وقت دیا اور ان کی کوشش تھی کہ رپورٹ زیادہ سے زیادہ جامع اور غیر جانبدار ہو۔




