لاہور: قومی ٹی 20 کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل ٹیم میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں ہے ۔
پی سی بی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے بتایا کہ سال میں انہوں نے سب سے زیادہ 56 سے 58 میچز کھیلے ہیں، اس لیے فی الوقت آرام کر رہے ہیں تاکہ جنوری سے اپریل تک ہونے والی کثیر کرکٹ کے لیے خود کو تازہ رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ لیگ کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ خود کیا ہے، تاہم ڈومیسٹک ون ڈے کپ میں حصہ لیں گے ۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں دباؤ زیادہ ہوتا ہے، لیکن ٹیم صحیح راستے پر گامزن ہے اور اُمید ہے کہ پاکستان جلد نمبر ون ٹیم بن جائے گا ۔
کپتان نے کہا کہ پچھلے چھ ماہ سے ورلڈ کپ کی تیاریوں پر توجہ دی جا رہی ہے اور ٹیم کو وہ کمبی نیشن مل گیا ہے جس کی تلاش تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سکواڈ میں چھ میچز کے دوران وہی کھلاڑی موقع پائیں گے، جس سے کھلاڑیوں کو اعتماد اور بہتر پرفارمنس حاصل ہوگی ۔
بابر اعظم کے بارے میں بات کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ وہ ان کے بہت اچھے دوست ہیں اور بابر کو سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ انہوں نے بتایا کہ بابر اعظم نے پچھلے سات سے آٹھ سالوں میں پاکستان کے لیے شاندار پرفارمنس دی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت کر 2026 یادگار بنائیں گے : کپتان سلمان علی آغا
آخری دو سے تین سالوں میں فینز کی توقعات کے مطابق پرفارمنس نہیں دکھا سکے۔ سلمان علی آغا نے کہا کہ وہ اور بابراعظم دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور کبھی بھی کپتانی کے معاملے کو دوستانہ تعلقات میں نہیں لایا ۔
انہوں نے بتایا کہ ایشیا کپ کے بعد جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز سے قبل بابر اعظم نے انہیں کہا کہ فارم آتی جاتی رہتی ہے ۔ سلمان علی آغا نے کہا کہ کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ سال میں 56 میچز کھیلیں گے، اور آئندہ موقع ملا تو ضرور کھیلیں گے ۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کو فخر کی بات قرار دیا ۔
کپتان نے کہا کہ کھلاڑیوں کی فٹنس بہت ضروری ہے اور انہیں روٹیشن پالیسی کے تحت ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے سری لنکا میں ہونے والی سیریز کی اہمیت پر زور دیا، جہاں اسپن زیادہ ہوتی ہے اور رات میں بال سوئنگ بھی ہوتی ہے ۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں کھیلنا ان کے لیے سب سے زیادہ خوشگوار تجربہ ہے جبکہ جنوبی افریقہ میں فینز بہت سپورٹیو ہیں ۔
آخر میں انہوں نے بتایا کہ محمد یوسف اور مائیکل کلارک کی بیٹنگ سے متاثر ہیں اور اکثر ان دونوں کی بیٹنگ دیکھتے ہیں۔ کھانے میں پائے اور نہاری کے بجائے کڑاہی اور بریانی زیادہ پسند ہے ۔




