الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ساتھ ہی آزاد سینیٹرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے متعلق ان کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ مؤقف ایک جواب میں دیا ہے جو بیرسٹر گوہر کے خط کے ردعمل میں سامنے آیا۔

یاد رہے کہ بیرسٹر گوہر نے آزاد سینیٹرز کی تحریک انصاف میں شمولیت کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آزاد سینیٹرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو تسلیم کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پارٹی پالیسی اور تنظیمی معاملات کا حصہ ہے اور اسے بطور چیئرمین مانا جانا چاہیے۔

تاہم، الیکشن کمیشن نے جوابی خط میں بیرسٹر گوہر کی قانونی پوزیشن واضح کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں آزاد سینیٹرز کو پارٹی میں شامل کرانے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ نہ تو انہیں پی ٹی آئی کے چیئرمین کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ اس حیثیت میں کوئی درخواست دینے کا قانونی اختیار رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بیانات پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا اعتراف سامنے آگیا

جوابی خط میں الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ بیرسٹر گوہر نے آزاد سینیٹرز کی شمولیت تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن چونکہ پی ٹی آئی کا انٹرا پارٹی الیکشن کیس ابھی زیر التوا ہے اور تحریک انصاف نے خود لاہور ہائیکورٹ سے سٹے آرڈر لے رکھا ہے، اس لیے اس وقت کسی بھی فرد کو چیئرمین کے طور پر قانونی حیثیت دینا ممکن نہیں۔

دوسری جانب، بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن کا جواب موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اب تک پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان،شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل

یہ تمام صورتحال تحریک انصاف کی اندرونی قانونی پوزیشن، انٹرا پارٹی انتخابات کے التوا، اور پارٹی میں شمولیت سے متعلق فیصلوں پر نمایاں اثر ڈال رہی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے ہونے تک کسی بھی دعوے یا عہدے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

Scroll to Top