بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور مختلف محاذوں پر ناکامیوں کے بعد اس شعبے میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث بھارتی حکومت، خصوصاً وزیرِاعظم نریندر مودی، کو دنیا بھر میں سبکی اور رسوائی کا سامنا ہے۔
بھارتی ایئرلائن انڈسٹری اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے آپریشنل بریک ڈاؤن کا سامنا کر رہی ہے، جس نے نام نہاد “شائننگ انڈیا” کے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے فضائی حدود پر پابندیوں کے بعد بھارتی ایئر لائنز کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
بھارتی ایوی ایشن میں نئے پائلٹ قوانین اور ناقص منصوبہ بندی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جو حکومت کے انتظامیہ کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ اس بحران کے دوران بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے ملک بھر میں 500 پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جیسا کہ عالمی نشریاتی اداروں نے رپورٹ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ایئرلائن انڈیگو کی 500 سے زائد فلائٹس منسوخ،ایئرپورٹ پر افراتفری
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق انڈیگو کی وقت پر پرواز کی شرح صرف 8.5 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ یہ ایئرلائن اندرونِ ملک فضائی آپریشن میں 60 فیصد سے زائد حصص رکھتی تھی۔ بحران کے دوران دیگر نجی بھارتی ایئر لائنز نے موقع کا فائدہ اٹھا کر مسافروں سے منہ مانگے کرائے وصول کرنا شروع کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں:’’چائے بولو چائے‘‘نریندر مودی کی ویڈیو پر بھارت میں ہنگامہ
ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور دیرینہ خامیوں نے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کے اثرات ملک بھر میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس شعبے کی مسلسل تنزلی بھارتی فضائی صنعت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔




