اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی حلقوں میں کچھ سینئر رہنماؤں نے تسلیم کیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر مسلسل فوجی قیادت کے خلاف تضحیک آمیز زبان کے استعمال نے پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعے کو آنے والے سخت ردعمل میں اہم کردار ادا کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ پی ٹی آئی کی قیادت میں زیرِ بحث رہا، جہاں بعض رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں بارہا اعلیٰ فوجی قیادت کے لیے انتہائی توہین آمیز اور تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے۔
ایک سینئر پی ٹی آئی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’’جب ہم مسلسل اور بار بار یہ سب کریں گے، تو دوسری طرف سے کیا توقع رکھیں گے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں عمران خان کے ‘ایکس’ اکاؤنٹ سے شاید 100 سے زیادہ بار فوجی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان،شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی مشکل یہ ہے کہ اگرچہ کئی رہنما پارٹی کے بانی چیئرمین سے مختلف امور پر اختلاف رکھتے ہیں، جن میں فوجی قیادت پر ان کے مستقل ذاتی حملے بھی شامل ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی کوئی رائے فیصلوں یا پیغام رسانی پر اثرانداز نہیں ہوتی۔
ایک اندرونی ذریعے کے مطابق پارٹی کا بیانیہ اب بھی اڈیالہ جیل سے طے ہونے والے انداز کو ہی منعکس کرتا ہے، چاہے اندرونِ خانہ کتنی ہی تحفظات کیوں نہ ہوں۔ بمشکل ہی کوئی سینئر پی ٹی آئی رہنما بانی چیئرمین کی ایسی سوشل میڈیا پوسٹس کو دوبارہ شیئر کرتا ہے یا لائک کرتا ہے۔
زیادہ تر پی ٹی آئی رہنما معاملات کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں، مگر نہ تو عمران خان ان کی بات سنتے ہیں اور نہ ہی قیادت کے پاس پارٹی کے سوشل میڈیا یا بانی چیئرمین کے اکاؤنٹس پر کوئی اختیار ہے۔
جمعے کو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پی ٹی آئی بانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’ذہنی مریض‘‘ اور ’’سنگین قومی سلامتی کا خطرہ‘‘ قرار دیا۔ پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے اگرچہ عمران خان کا نام نہیں لیا، لیکن تنقید کا ہدف واضح طور پر جیل میں موجود رہنما اور ان کی پارٹی تھی۔
فوج کے ترجمان کے مطابق عمران خان اور پی ٹی آئی کا بیانیہ ریاست مخالف اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ ایسے عالمی میڈیا میں پذیرائی پا رہا ہے جن کے ممالک کی افواج ’’ماضی میں پاک فوج کے ہاتھوں شکست کھا چکی ہیں‘‘۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی پر پابندی،خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق عطا اللہ تارڑ کا اہم بیان
بیانات کا یہ تبادلہ فوج اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان اب تک کی براہِ راست ترین کشیدگیوں میں سے ایک ہے جو دونوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری اور پی ٹی آئی کے اندر اس بات پر جاری اندرونی کشمکش کو نمایاں کرتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے پارٹی کو کیا حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔




