وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے زیادہ تر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت، افغانستان، یورپ اور دیگر ممالک سے چل رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے اندر موجود اکاؤنٹس یا وہ افراد جن کے پاس دوہری شہریت ہے اور بیرون ملک بیٹھ کر ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں، ان کے خلاف شکایات رجسٹر کی جائیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کا فیصلہ دو ٹوک ہے کہ جو فوج، اس کے سربراہ یا قومی سلامتی کے حوالے سے افواہیں پھیلائے گا، اس کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی اور کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
پی ٹی آئی پر پابندی، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور پارٹی کی مستقبل کی قانونی حیثیت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے تمام پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔ ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’بطور جماعت پی ٹی آئی کا اب وجود ہی نہیں رہا، اس کے پاس انتخابی نشان بھی موجود نہیں، اس لیے اسے کالعدم قرار دینے کے معاملے پر قانونی مشاورت ناگزیر ہے‘۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر سہیل آفریدی امن و امان بہتر نہیں کریں گے تو گورنر راج کا آپشن استعمال ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج ہمارے پاس ایک سنجیدہ آپشن ہے اور اس کا قانونی جواز بھی موجود ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر کے ساتھ کٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ رہا ہے، عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتیں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں اور نہ ملاقات کی اجازت دی جائے گی، نہ ہی جیل کے باہر کسی ہجوم کو اکٹھا ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر قومی سلامتی اور عسکری قیادت کے خلاف چلائی جانے والی مہمات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’افواجِ پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگ جیتی، معرکہ حق کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا، لیکن بدقسمتی سے معرکہ حق میں فتح حاصل کرنے والے سپہ سالار کے خلاف ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:پاک آرمی کسی بھی قسم کے فتنہ یا انتشار کو برداشت نہیں کرے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’ان کے زیادہ تر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور یورپ سے چل رہے ہیں‘۔ پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مذاکرات کا موقع گنوا دیا ہے اور اب اگر مذاکرات چاہئیں تو پہلے بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ لوگ سیاستدان نہیں، دہشتگرد ہیں‘ اور ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔




