بحرین نے پاکستانی شہریوں کے لیے گولڈن ویزا پروگرام آسان بنا دیا

بحرین نے غیر ملکی شہریوں کے لیے مقیم ہونا مزید آسان کر دیا ہے اور گولڈن ویزا پروگرام میں بڑی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے قومی شہریت اور رہائشی امور کے مطابق اب کم از کم سرمایہ کاری کی شرط میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پاکستانی شہری بھی اس پروگرام کے اہل ہو گئے ہیں۔

پہلے گولڈن ویزا کے لیے کم از کم 2 لاکھ بحرینی دینار سرمایہ کاری کی ضرورت تھی، تاہم اب یہ رقم گھٹا کر 1 لاکھ 30 ہزار دینار کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق جو افراد پہلے ہی 1 لاکھ 30 ہزار دینار مالیت کی جائیداد کے مالک ہیں، وہ بھی اب اس پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

گولڈن ویزا پروگرام مختلف کیٹیگریز کے افراد کے لیے دستیاب ہے۔ اس میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے، اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد جن کی ماہانہ آمدنی 2000 دینار ہو، مقامی ریٹائرڈ شہری جنہوں نے 15 سال کام کیا ہو، بیرونِ ملک ریٹائرڈ افراد جن کی پنشن کم از کم 4000 دینار ہو اور وہ باصلاحیت افراد شامل ہیں جو بحرین کی معیشت میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا دورہ بحرین ، تجارت بڑھانے،ویزاشرائط نرم کرنے پر اتفاق

درخواست دینے کا عمل بھی آسان بنایا گیا ہے۔ امیدوار وزارت کے آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست جمع کرائیں گے۔ درخواست کے لیے درست پاسپورٹ، چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ، رہائش کا ثبوت اور صحت کی انشورنس لازمی ہے۔ درخواست فیس 5 دینار اور ویزا فیس 300 دینار رکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف کو بحرین کے سب سے اعلیٰ اعزاز سے نواز دیا گیا

گولڈن ویزا رکھنے والے افراد کو بحرین میں مکمل کاروباری آزادی حاصل ہوگی۔ وہ ملک میں کہیں بھی کام کر سکتے ہیں، بار بار داخلے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کو بھی اسپانسر کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، انہیں مکمل کاروباری ملکیت کے حقوق بھی حاصل ہوں گے، جس سے بحرین میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

Scroll to Top