انڈیا میں حالیہ ہفتوں میں آدم خور بھیڑیوں کے ہاتھوں بچوں سمیت 9افراد کے ہلاک ہونے کے بعد آدم خور بھیڑیوں کو ٹریک کرنے کیلئے ڈرون تعینات کئے گئے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی سے ایف پی کے مطابق تازہ ترین شکار ایک 10 ماہ کی بچی تھی جسے شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں ہفتے کو اس وقت بھیڑیا اٹھا لے گیا جب وہ اپنی ماں کے ساتھ سو رہی تھی۔ بچی بعد میں کھیت میں مردہ حالت میں ملی۔
ایک دن پہلے ایک پانچ سالہ لڑکے کو اس کی ماں کے سامنے گھر کے باہر سے بھیڑیا اٹھا کر لے گیا۔ بچہ گنے کے کھیت میں زخمی حالت میں ملا اور ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سائنسدانوں نے واقعی 12 ہزار سال پہلے معدوم ہونے والی نسل کے ڈائر بھیڑیے کو دوبارہ زندہ کر دیا؟
حکام نے کہا کہ حملہ اسی پیٹرن کے مطابق ہوا جو ستمبر سے ملحقہ دیہاتوں میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں دیکھا گیا ہے۔
پولیس، محکمہ جنگلات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ ترین اموات نے بہرائچ میں مشتبہ بھیڑیوں کے حملوں سے ہلاکتوں کی تعداد تین ماہ میں کم از کم نو تک پہنچا دی ہے۔ بھیڑیوں کے شکار میں ایک بوڑھا جوڑا بھی شامل تھا۔
محکمہ جنگلات کے افسر رام سنگھ یادو نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ حکام نے علاقے میں ڈرون، کیمرہ ٹریپس اور شوٹرز تعینات کئے ہیں۔ بھیڑیوں کا رویہ بدلتا ہوا لگ رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں وہ دن کے وقت سرگرم نظر آتے ہیں، جو عجیب ہے۔دیگر حکام نے کہا کہ جانور غیر معمولی حد تک بے خوف دکھائی دیتے ہیں۔
بہرائچ میں گزشتہ سال بھی اسی طرح کے حملے ہوئے تھے جب بھیڑیوں کے ایک جھنڈ نے کم از کم 9افراد کو ہلاک اور کئی دیگر کو زخمی کیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھیڑیے انسانوں یا مویشیوں پر صرف اس وقت حملہ کرتے ہیں جب وہ بھوکے ہوں، ورنہ وہ چھوٹے ہرن جیسے کم خطرناک شکار کو ترجیح دیتے ہیں۔
بہرائچ کے دیہاتی کہتے ہیں کہ وہ اب اپنے گھروں کے قریب چھپے بھیڑیوں سے جان کے خوف میں جی رہے ہیں۔ ہمارے بچے گھر کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں، ہم صرف چاہتے ہیں کہ یہ حملے رک جائیں۔




