پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر 24 نومبر کو ہونے والے خودکش دھماکوں کی تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور تینوں افغان شہری تھے، تاہم نادرا کو ان کے حوالے سے مزید تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق دھماکوں کے بعد اب تک 100 سے زائد مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے اور حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے ایف سی ہیڈ کوارٹر تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے دن حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون موجود نہیں تھا، جس سے ان کے رابطوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی مشکل ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کوہالہ احتجاج، مرکزی شاہراہ بند، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا
تفتیشی ٹیم اب سہولت کار کی شناخت اور دیگر ممکنہ رابطوں کی تلاش میں مصروف ہے تاکہ حملے کے پس پردہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس واقعے میں 24 نومبر کو تین ایف سی اہلکار شہید ہوئے جبکہ تینوں خودکش حملہ آور بھی موقع پر ہلاک ہو گئے تھے۔ دھماکے کے بعد علاقے کو فوری طور پر سیل کر کے سرچ آپریشن اور سیکیورٹی بڑھا دی گئی تھی تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان طورخم بارڈر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آج کھلنے کا امکان
یہ حملہ نہ صرف پشاور بلکہ پورے ملک میں سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے، اور اس کی تحقیقات پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔




