پاک افغان طورخم بارڈر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آج کھلنے کا امکان

پاک افغان طورخم بارڈر آج انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کھلنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ تجارتی گزرگاہ گزشتہ پچاس روز سے مسلسل بند ہے جس کے باعث دونوں جانب مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ سرحد بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں تھم گئی ہیں بلکہ امپورٹ، ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ سے وابستہ ہزاروں کارگو گاڑیاں بھی وہیں پھنس گئی ہیں۔

کسٹم ذرائع کے مطابق پاکستان سے افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیاں برآمد کی جاتی ہیں، جبکہ افغانستان سے کوئلہ، خشک میوہ جات اور تازہ پھل درآمد ہوتے ہیں۔ سرحد کی بندش کے باعث ان تمام اشیاء کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈر سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان یومیہ اوسطاً 85 کروڑ روپے کی دوطرفہ تجارت ہوتی ہے، جو پچاس روز سے مکمل طور پر معطل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے بعد سمندری طوفان بھارت کی طرف بڑھنے لگا

اس صورتحال نے ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ دیگر افراد کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ بارڈر کے اطراف پھنسے ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ کھانے پینے کا کوئی بندوبست موجود نہیں۔ ان کے مطابق خرچے کے لیے رکھے گئے پیسے ختم ہو چکے ہیں، جبکہ سخت سرد موسم کے باعث متعدد ڈرائیورز بیمار بھی پڑ گئے ہیں۔ پچاس روز سے جاری اس بندش نے وہاں موجود تمام افراد کو نہ صرف مالی مسائل میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والوں کے ویزے روک دیے

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آج بارڈر کھلنے کی کوشش اس امید کے ساتھ کی جا رہی ہے کہ پھنسے ہوئے افراد کو ریلیف ملے اور ضروری تجارتی سامان کی نقل و حرکت بھی بحال ہو سکے۔ تاہم حتمی فیصلہ سرحدی انتظامیہ کی جانب سے آج سامنے آنے کا امکان ہے۔

Scroll to Top