سونےکی قیمت تاریخ کی بلندیوں پر،فی تولہ قیمت کتنی ہے؟

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں اور عام شہریوں میں تشویش کی کیفیت نمایاں ہو رہی ہے۔ مقامی اور عالمی مارکیٹ دونوں سطحوں پر قیمتوں میں آنے والا یہ نمایاں اضافہ نئی معاشی صورتِ حال کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ آل پاکستان صرافہ، جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سونا ایک بار پھر اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔

آل پاکستان صرافہ، جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے تازہاعداد و شمار کے مطابق فی تولہ سونا 5ہزار300 روپے کے اضافے کے بعد 4 لاکھ 44 ہزار162روپے پر ٹریڈ ہوا۔ اسی طرح دس گرام سونا 4 ہزار544روپے اضافے کے بعد 3لاکھ 80 ہزار797روپےمیں ٹریڈ کیا گیا، جسے ماہرین عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور بین الاقوامی معاشی غیر یقینی صورتِ حال کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر غیر یقینی حالات بڑھنے کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے کا رخ کر رہے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی سطح پر روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور صرافہ مارکیٹ میں طلب میں اضافہ بھی سونے کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ چند روز میں بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے، کیونکہ عالمی حالات اور معاشی عوامل ابھی بھی غیر مستحکم ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی مزید مہنگی، فی کلو قیمت 220 روپے تک پہنچ گئی

عالمی ٹرینڈز کے مطابق سونا طویل عرصے سے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں اس کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو مقامی مارکیٹ میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

دنیا بھر میں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پر ہے جبکہ ایشیا میں یہ مقام چین کے پاس ہے۔ بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اور ایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ پاکستان اس فہرست میں 49ویں نمبر پر موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سے سرفہرست ہیں، جب کہ ایشیائی خطے میں چین اور بھارت کے پاس سب سے زیادہ ذخائر موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں سونے کی قیمتیں مستحکم : فی تولہ کتنے کا ہے ؟

ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے 2024ء میں 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدا، جو گزشتہ دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔ دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلی کی تازہ رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ اگر عالمی معیشت میں مزید عدم استحکام پیدا ہوا یا شرح سود میں واضح کمی آئی، تو سونے کی عالمی قیمتیں نئی تاریخی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔

Scroll to Top