ہانگ کانگ : کثیرالمنزلہ رہائشی کمپلیکس میں آتشزدگی، ہلاکتیں 44 تک پہنچ گئیں

ہانگ کانگ کے میدانی علاقے تائی پو ڈسٹرکٹ میں واقع کثیرالمنزلہ رہائشی کمپس میں لگنے والی خوفناک آگ نے تباہی مچا دی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اس المناک واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 44 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 279 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش اور امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آگ نے ہانگ کانگ کے اس رہائشی علاقے کو اس وقت نشانہ بنایا جب عوامی ہاؤسنگ اپارٹمنٹس میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ یہ 18 گھنٹے سے زائد وقت تک جلتی رہی اور اب بھی فائر فائٹرز کی بڑی تعداد اس پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عمارت کا بلاک وانگ فک کورٹ کہلاتا ہے، جہاں آگ تیزی سے پھیلی۔ حکام نے اسے لیول فائیو یعنی شہر کی سب سے خطرناک اور شدید ترین درجہ بندی والی آگ قرار دیا ہے، جبکہ ہنگامی صورتحال کے دوران 800 سے زائد فائر فائٹرز آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی واقعے کے دوران ایک بچے اور معمر خاتون کو رات گئے ایک کامیاب امدادی کارروائی میں زندہ نکال لیا گیا، تاہم اب بھی عمارت کے متعدد حصوں میں پھنسے افراد تک پہنچنا انتہائی مشکل مرحلہ بنا ہوا ہے۔

رات گئے ایک اہم ریسکیو آپریشن کے دوران ایک بچے اور ایک معمر خاتون کو زندہ نکال لیا گیا، تاہم عمارت میں دھواں بھر جانے اور راستے بند ہونے کے باعث ریسکیو ٹیموں کے لیے اندونی حصوں تک رسائی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں سموگ اور دھند شدت اختیار کرگئی،اہم ایڈوائزری جاری

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ نے پورے رہائشی کمپلیکس کو متاثر کیا ہے جو 8 بلاکس پر مشتمل ہے، ہر بلاک 31 منزلوں پر مشتمل ہے جبکہ مجموعی طور پر تقریباً دو ہزار اپارٹمنٹس اور پانچ ہزار کے قریب رہائشی یہاں مقیم تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد تقریباً 700 افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انٹرنیشنل کرکٹ جوا کھیلنے والے امپائر سمیت 2ملزمان گرفتار

فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ہلاکتوں میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 29 بتائی گئی ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ اب تک سامنے نہیں آسکی اور ابتدائی تحقیقات جاری ہیں۔ عمارت میں اب بھی کئی حصے ایسے ہیں جہاں ریسکیو ٹیموں کو رسائی نہیں مل سکی، جس کے باعث لاپتہ افراد کی تلاش انتہائی چیلنج بن چکی ہے۔

Scroll to Top