واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے قریب ممکنہ دہشتگردانہ حملے میں نیشنل گارڈ کے 2فوجیوں کو گولی مارنے والے کی شناخت 29 سالہ افغان شہری کے طور پر کی گئی ہے جو 2021 میں افغانستان سے انخلاء کے دوران امریکہ آیا تھا۔
امریکی خبررساں ادارے نیویارک پوسٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ رحمان اللہ لکنوال مبینہ طور پر 2:15 بجے کے قریب نارتھ ویسٹ ڈی سی میں فارراگٹ ویسٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب انتظار میں تھاجہاں اس نے خاتون گارڈ کو سینے میں ماری اور دوسری گولی اس کے سر پر ماری
رحمان اللہ لکنوال نے دوسرے گارڈ پر فائرنگ کی اور اسے مارا جس پر تیسرا گارڈ اس علاقے میں پہنچ گیا جس نے اسے قابو کیا۔
حکام کے مطابق دو مسلح فوجی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے جس مسلح شخص نے انہیں نشانہ بنایا جہاں سے شدید زخمی حالت میں انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن میں نیشنل گارڈز کے 2اہلکاروں کو گولیاں مارکر ہلاک کردیا گیا، وائٹ ہائوس بند
امریکی میڈیا کے مطابق ایف بی آئی ابتدائی طور پر شوٹنگ کو دہشتگردی کی ممکنہ کارروائی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ڈی سی کے میئر موریل باؤزر نے بدھ کی سہ پہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ ٹارگٹڈ شوٹنگ تھی جس میں ایک فرد “ان محافظوں کو نشانہ بناتا دکھائی دیا۔
صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں شوٹنگ کے وقت ڈی سی میں نہیں تھے، ٹرمپ فلوریڈا میں اور وینس کینٹکی میں فوجیوں سے ملاقات کر رہے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے بعد سے 500 اضافی نیشنل گارڈز کے دستوں کو واشنگٹن ڈی سی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
جنگ کے سیکرٹری پیٹ ہیگستھ نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم اپنے دارالحکومت کو محفوظ بنائیں گے۔ ہم اپنے شہروں کو محفوظ بنائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہےکہ میں نیشنل گارڈ کے سیکرٹری آرمی سے کہوں کہ وہ واشنگٹن ڈی سی میں 500 اضافی دستے، نیشنل گارڈز مین شامل کریں۔
یہ صرف اس بات کو یقینی بنانے کے ہمارے عزم کو مضبوط کرے گا کہ ہم واشنگٹن ڈی سی کو محفوظ اور خوبصورت بنائیں گے۔
دی نیویارک پوسٹ کے مطابق قبل ازیں تقریباً 2,100 نیشنل گارڈ کے دستے ڈی سی واشنگٹن میں تعینات کیے گئے تھے،جن میں تقریباً 900 ڈی سی نیشنل گارڈ کے اور تقریباً 1,200 دیگر ریاستوں سے تھے۔




