امریکی ریاست واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب 2 نیشنل گارڈز کو گولیاں مار دی گئیں جس سے وہ ہلاک ہو گئے جس کے بعد وائٹ ہائوس کو بند کردیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی ہے ،پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ کو فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے آگاہ کردیا گیا جبکہ وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کے اطراف کے علاقے کو بھی سیل کردیا گیا، پولیس نے شہریوں کو آئی اسٹریٹ کے قریب جانے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیوٹن ، ٹرمپ ملاقات کا فیصلہ کس کا تھا؟ تمہاری ماں کا‘‘ترجمان وائٹ ہائوس صحافی پر برہم
ابتدائی بطور پر اہلکاروں کی حالت سے متعلق کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
واقعے کے ردعمل میں ڈی سی میں کئی سفارتخانوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے ایکس پر کہا کہ محکمہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ مزید معلومات اکٹھا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
فائرنگ کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر اپنے ویسٹ پام بیچ گولف کورس میں موجود تھے ۔
فائرنگ کرنیوالے کو بھاری قیمت چکانا پڑیگی، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے شخص کو جانور قرار دیدیا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے شخص کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔
دوسری جانب فائرنگ کے واقعے کے بعد واشنگٹن کے رونالڈ ریگن ائیرپورٹ پر پر وازوں کو سکیورٹی کی وجہ سے گراؤنڈ کیا گیا تاہم کچھ دیر کی بندش کے بعد ائیرپورٹ پر معمول کی کارروائیاں دوبارہ شروع کی گئیں۔




