اُلتر گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد ہنزہ میں صورتحال تشویشناک

وادیِ ہنزہ میں اُس وقت خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی جب اُلتر گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گیا اور برفانی تودے نے اچانک پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں غیر معمولی موسم دیکھا جا رہا تھا اور گلیشیئر کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی زور دار برفانی تودہ نیچے آیا جس نے پوری وادی میں خوف کی لہر دوڑا دی۔

اُلتر گلیشیئر، ہنزہ میں موجود درجنوں بڑے گلیشیئرز میں سے ایک اہم گلیشیئر ہے۔ گزشتہ روز اس علاقے میں موسم اچانک غیر معمولی حد تک تبدیل ہوا، اور اسی دوران گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹنے سے وادی میں تیز ہواؤں، برف کے دباؤ اور تودے کے پھیلاؤ نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد وادی کے مختلف مقامات پر لوگوں نے خطرے کے پیشِ نظر نقل و حرکت محدود کر دی۔

شدید تیز ہواؤں نے وادی میں معمولاتِ زندگی کو مسلسل دوسرے روز بھی بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ مختلف علاقوں میں لوگ گھروں تک محدود رہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ تیز ہواؤں کے باعث وادی میں برفانی تودے کے مزید پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں بے چینی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نادرا نے گھر بیٹھے سرٹیفکیٹس بنوانے کی سہولت متعارف کرادی

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ہنزہ میں برفانی تودے مارچ اور اپریل کے مہینوں میں گرتے ہیں، جب موسم کی شدت میں تبدیلی آتی ہے۔ لیکن نومبر میں گلیشیئر کا یوں ٹوٹ جانا اور برفانی تودے کا گرنا موسمیاتی تبدیلی کے جاری سلسلے کا ایک اور واضح اشارہ ہے۔ ان ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات موسمیاتی عدم توازن کو ظاہر کرتے ہیں اور مستقبل میں ایسے حادثات کے بڑھنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئر شو میں 202 ارب ڈالر کے معاہدوں کا نیا ریکارڈ قائم

اس غیرمعمولی واقعے نے نہ صرف مقامی آبادی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ تیز ہواؤں، گلیشیئر کے ٹوٹنے اور برفانی تودے کے پھیلاؤ نے پوری وادی میں خطرے کی کیفیت برقرار رکھی ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث ہنزہ میں زندگی معمول پر آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے، جبکہ لوگ اب بھی موسم کے اچانک بگاڑ سے خوفزدہ ہیں۔

Scroll to Top