ایتھوپیا کے ہیلی گبی آتش فشاں کے اچانک پھٹنے کے بعد وہاں سے نکلنے والی راکھ دہلی تک پہنچ گئی ہے۔ یہ آتش فشاں ہزاروں سالوں سے خاموش تھا اور اتوار کی صبح پھٹا، جس سے ہزاروں فٹ بلندی تک راکھ کا فوارہ فضا میں بلند ہوا۔
اس راکھ کی لپیٹ میں آنے کے سبب بھارت میں کئی بین الاقوامی اور اندرونی پروازیں منسوخ، تاخیر یا دوبارہ راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ ملک کی ہوا بازی کے ریگولیٹر نے ایئرلائنز سے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے “سختی سے گریز” کریں۔
ماہرین کے مطابق راکھ کی سطح ابھی واضح نہیں ہے، لیکن دہلی کے فضائی معیار پر اس کا اثر کم ہونے کا امکان ہے۔ شہر میں فضائی معیار منگل کے روز “بہت خراب” درج کیا گیا تھا۔
ہوا میں راکھ کے ذرات چھوٹے اور کھرچنے والے ہوتے ہیں، جو ہوائی جہاز کے انجن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ہوائی اڈے آلودہ کر سکتے ہیں اور نظر کی حد کم کر دیتے ہیں، جس سے پروازوں کے لیے خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
انڈیا میٹیورولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (IMD) کے ڈائریکٹر جنرل مرتیونجے موہاپاترا نے بی بی سی کو بتایا، “متاثرہ بلندی سطح سمندر سے 8.5 کلومیٹر (5.2 میل) سے 15 کلومیٹر کے درمیان ہے۔ یہ عارضی طور پر سیٹلائٹ افعال اور پروازوں پر اثر ڈالے گا، لیکن موسم یا فضائی معیار پر اثر کم ہے۔ یہ شمالی بھارت پہنچ چکا ہے اور چین کی جانب بڑھ رہا ہے۔”
پرائیویٹ ایجنسی سکائمٹ ویذر کے مطابق، راکھ کے پھیلاؤ کا دورانیہ بتانا مشکل ہے، لیکن IMD کے اندازے کے مطابق دہلی کے آسمان منگل کی شام تک صاف ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طیارے کی غلط رن وے پر لینڈنگ، دہلی ایئرپورٹ تباہی سے بچ گیا
ہوائی آپریشنز متاثر ہوئے ہیں، ایئر انڈیا نے 11 پروازیں منسوخ کی ہیں، جبکہ ایئرلائنز جیسے انڈیگو، اکاسا ایئر اور KLM بھی متاثر ہوئی ہیں۔ انڈیگو نے X پر جاری بیان میں کہا کہ وہ صورتحال کو “بین الاقوامی ہوا بازی کے اداروں کے ساتھ ہم آہنگی میں ٹریک کر رہی ہے”۔
ممبئی ایئرپورٹ نے مسافروں سے کہا ہے کہ وہ پرواز کی حالت جانچنے کے بعد ہی روانہ ہوں۔
بھارت کی ڈائریکٹریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے پروازوں کے آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ راکھ کے سامنا کی صورت میں فوری رپورٹ کریں، بشمول انجن کی کارکردگی میں خرابی یا کیبن میں دھواں یا بو محسوس ہونے کی صورت میں۔ مزید ہدایت ہے کہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے جہازوں کا معائنہ کیا جائے اور اگر حالات خراب ہوں تو پروازیں ملتوی یا معطل کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے چناب پربھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کیلئے ڈیم بنانےکا فیصلہ
Skymet Weatherکے صدر جی پی شرما نے کہا، “آتش فشاں کے باعث پیدا ہونے والے آلودگی کی پیمائش کے لیے پہلے سے بہت تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پھٹنا اچانک ہوا، اس لیے آلودگی کی سطح معلوم نہیں ہے۔”




