اسلام آباد: افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ شب تقریباً بارہ بجے صوبہ خوست کے ضلع گربز کے علاقے مغلگئی میں پاکستانی فورسز نے مقامی شہری ولیات خان ولد قاضی میر کے گھر پر بمباری کی۔ تاہم سکیورٹی فورسز نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ یہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں کوئی فضائی کارروائی نہیں کی۔ جب بھی پاکستان کوئی فوجی یا سکیورٹی کارروائی کرتا ہے، اسے عوام کے سامنے تسلیم کیا جاتا ہے۔ دعویٰ کردہ علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کا تعلق زیادہ تر افغانستان کے اندرونی جھگڑوں یا بڑھتی ہوئی داخلی لڑائیوں سے ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ کوئی ایسا منصوبہ بند ڈرامہ بھی ہو سکتا ہے جو بھاری تعداد میں گھسے ہوئے بھارتی ایجنٹس خوارج کے ذریعے رچایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بنیاد پر بڑا آپریشن، بھارتی پراکسی دہشتگرد ہلاک
سکیورٹی فورسز کے مطابق افغانستان اکثر اپنی داخلی مشکلات کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں زیادہ تر پرانی یا جعلی مواد شامل ہوتا ہے۔ اس وقت افغانستان شدید دباؤ میں ہے اور خاص طور پر اسلام آباد، وانا کالج اور پشاور میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان کے جائز ردِعمل سے خوفزدہ ہے۔
گزشتہ رات تقریباً ۱۲ بجے، صوبہ خوست کی ضلع گربزو کے علاقے مغلګۍ میں پاکستانی جارح افواج نے ایک مقامی شہری، ولایت خان ولد قاضی میر کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں ۹ بچے (۵ لڑکے اور ۴ لڑکیاں) اور ایک خاتون شہید ہو گئے اور اس کا گھر تباہ ہو گیا۔
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) November 25, 2025
ذرائع نے مزید کہا کہ جب بھی پاکستان جواب دے گا، سب کو حقیقت کا علم ہو جائے گا۔ اکتوبر میں کابل میں ہونے والے واقعات کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جھوٹے بیانیے کو افغانستان کے نئے قریبی دوست بھارت نے بھی سوشل میڈیا پر پھیلایا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ:خودکش بمبار کی تصویر منظر عام پر آ گئی
سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی فضائی کارروائی کے دعوے کی فوری اور کھلی طور پر تردید کرتا ہے اور عوام کو ہمیشہ درست معلومات فراہم کرتا ہے۔




