وفاقی آئینی عدالت نے 2025 کے لیے مختلف انتظامی اور معاون عملے کی بھرتیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نئے قائم ہونے والے ادارے نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں متعدد گریڈز کے خالی عہدوں پر بھرتی کی منظوری شامل ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے مجموعی طور پر 200 خالی اسامیوں کو پُر کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ اسامیاں گریڈ 2 سے گریڈ 22 تک کے لیے ہیں، اور اب بھرتی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
جاری کردہ فہرست کے مطابق رجسٹرار، سیکریٹری چیف جسٹس، ایڈیشنل رجسٹرار، ڈپٹی رجسٹرار، سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار، اسسٹنٹ رجسٹرار، سینئر پرائیویٹ سیکریٹری، پرائیویٹ سیکریٹری، سینئر پرائیویٹ ایسوسی ایٹ، کورٹ ایسوسی ایٹ، سینئر ریسرچ اینڈ ریفرنس آفیسر، ریسرچ اینڈ ریفرنس آفیسر، ریسرچ آفیسر، سینئر اکاؤنٹس آفیسر، لائبریرین، جوڈیشل اسسٹنٹ، اسسٹنٹ لائبریرین، ریسرچ اسسٹنٹ، ایڈیٹر آف پیپر بکس، سینئر اسسٹنٹ، اسسٹنٹ، یو ڈی سی، ایل ڈی سی، ڈفتری، کک، ڈرائیور، قاصد، نائب قاصد، مالی اور سویپر سمیت کل 30 مختلف پوسٹس شامل ہیں۔

درخواست دینے والے امیدوار وفاقی آئینی عدالت کی سرکاری ویب سائٹ پر جا کر مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ عدالت اس وقت عبوری مرحلے میں ہے اور تمام ضروری تیاریوں کے مکمل ہونے کے بعد مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 2026میں کونسی ڈگریاں رکھنے والوں کو زیادہ نوکریاں ملیں گی؟
مزید یہ کہ ملک کے چاروں صوبوں میں وفاقی آئینی عدالت کی رجسٹریاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ صوبائی رجسٹریوں کے قیام سے عوام اپنے صوبوں میں آئینی نوعیت کے مقدمات دائر کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی حملوں کے دعوے کی تردید
انہوں نے مزید کہا کہ آئینی عدالت میں ویڈیو لنک سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ عدالت اس وقت ٹرانزیشن فیز میں ہے اور جلد مکمل طور پر فعال ہو کر اپنا کردار ادا کرے گی۔




