اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)پاکستانی ٹینس اسٹار اعصام الحق نے بین الاقوامی ٹینس سے ریٹائرمنٹ لینے کااعلان کردیا
اسلام آباد میں جاری ٹورنامنٹ میں اعصام الحق، مزمل مرتضیٰ کیساتھ ڈبلز ایونٹ کھیلیں گے۔
اعصام الحق نے اسلام آباد میں اے ٹی پی چیلنجر کپ کے آغاز کے موقع پر بین الاقوامی ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا
اعصام الحق کا کہنا تھا کہ اے ٹی پی چیلنجر کپ کیریئر کا آخری ٹورنامنٹ ہوگا،
اسلام آباد میں جاری ٹورنامنٹ میں اعصام الحق، مزمل مرتضیٰ کیساتھ ڈبلز ایونٹ کھیلیں گے۔
اعصام الحق نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی ٹینس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والے ٹینس اسٹار اعصام الحق نے اے ٹی پی کے 11 ڈبلز ٹائٹل، ماسٹرز 1000 فائنلز ڈبلز کے دو مقابلے اور سنگلز میں 16 چیلنجرز اور فیوچر فائنلز اپنے نام کئے۔
تاہم ان کے کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ 2010 کا یو ایس اوپن ڈبلز فائنل تھا جب اعصام اور روہن بوپنا کی ہندوستان اور پاکستان کی اس جوڑی کا مقابلہ امریکی برائن برادرز سے ہوا۔ اس میچ میں انہیں سخت مقابلے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن دونوں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی شہری اپنے ای ویزا کو موجودہ پاسپورٹ سے لنک کرنا نہ بھولیں،جین میریٹ
اس واقعے کو اب پانچ سال گزر چکے ہیں اور افسوس کی بات یہ پاکستان اس دوران عالمی سطح پر ٹینس میں کوئی مقام حاصل نہ کر سکا۔
خود اعصام کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں اور ان کے ڈیوس کپ پارٹنر عقیل خان کا ملک میں کوئی متبادل نہیں ۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں کھلاڑی 36 سال کے ہو چکے ہیں اور زیادہ عرصے تک عالمی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی نہ کر سکیں گے۔
سوال: موجودہ صورتحال میں آپ ٹینس میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے کس حد تک پرامید ہیں؟
بدقسمتی سے مجھے اس وقت تو ایسا کھلاڑی نظر نہیں آرہا جو مستقبل میں میری طرح بین الاقوامی ٹینس میں پاکستان کی نمائندگی کرسکے اور طویل عرصے کھیل سکے۔ ڈیوس کپ سطح پر بھی میرے اور عقیل خان کے بعد کوئی متبادل نظر نہیں آرہا۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومتی یا فیڈریشن کی سطح پرایسے اقدامات نہیں کیے جاسکے کہ ٹینس میں کوئی آگے بڑھے،۔
اب فیڈریشن میں نئے لوگ آئے ہیں امید کرتا ہوں کہ اب کوئی بہتر منصوبہ بندی کرسکیں۔
اگر ابھی سے محنت شروع کی جائے تو پانچ یا سات سال بعد ہی کوئی کھلاڑی ابھر کر سامنے آ سکے گا۔




