پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ:خودکش بمبار کی تصویر منظر عام پر آ گئی

پشاور: پشاور فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ حملے سے چند لمحے قبل خودکش بمبار کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لی گئی تصویر منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں اسے ہیڈ کوارٹر کے نزدیک کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تصویر سیکیورٹی اداروں کو حملہ آوروں کی نقل و حرکت سمجھنے میں کلیدی مدد فراہم کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تینوں دہشتگرد افغان شہری تھے جو بھاری اسلحے سے لیس تھے اور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث دہشتگردوں کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جبکہ ایک حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔ ان کے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

پشاور پولیس اور کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد جمع کر لیے ہیں۔ کرائم سین ٹیم کے مطابق دہشتگردوں کے جسم کے اعضا تحویل میں لے لیے گئے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے پولیس لیب منتقل کیا جائے گا۔ ان اعضا کی مدد سے حملہ آوروں کی درست شناخت اور ممکنہ نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ، 3 دہشتگرد ہلاک، 3 اہلکار شہید، 2 زخمی

مزید برآں، نادرہ اور متعلقہ تفتیشی ٹیموں نے دہشتگردوں کے فنگر پرنٹس بھی حاصل کر لیے ہیں، جنہیں ڈیٹا بیس میں موجود ریکارڈ سے ملا کر ان کی شناخت کی تصدیق کی جائے گی۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت ہو چکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیڈٹ کالج حملہ: خوارج کی سازش ناکام ، کیڈٹس اور اساتذہ کے حوصلے بلند

سیکیورٹی حکام نے کہا، “ایف سی ہیڈ کوارٹر پر دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ تینوں دہشتگرد جہنم واصل کر دیے گئے ہیں اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد تفتیش کے عمل میں اہم کردار ادا کریں گے۔”

Scroll to Top