بنوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 17 دہشت گرد ہلاک

بنوں (کشمیر ڈیجیٹل)خیبر پختونخوا کے بنوں ریجن میں پولیس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز میں 3 اہم کمانڈرز سمیت 17 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوں ریجن کے مختلف علاقوں میں مقامی پولیس، سی ٹی ڈی، کوئیک رسپانس فورس اور سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ کامیاب آپریشنز میں 3 اہم کمانڈرز سمیت 17 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ تمام کارروائیوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی نفری محفوظ رہی، اور اہل علاقہ نے بھی بھرپور تعاون فراہم کیا۔ ہلاک دہشت گردوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد ہوئی۔

شیری خیل اور پکہ پہاڑ خیل میں فتنہ الخوارج کے جتھوں کی موجودگی کے بعد لکی پولیس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشت گرد ہلاک اور 5 زخمی ہوئے، جبکہ ایک سہولت کار کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ہلاک دہشت گردوں میں فتنہ الخوارج کے کمانڈرز نیاز علی عرف اکاشا اور عبداللہ عرف شپونکوئی شامل ہیں، جو پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے لیے انتہائی مطلوب تھے۔ سات کی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ 3 دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ہونے کی وجہ سے نکالی نہیں جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: مرکزی بینک کے افسران کے بہروپ میں آئے افراد نے کیش وین سے سات کروڑ روپے لوٹ لیے

نصر خیل کے علاقے میں لکی پولیس، سی ٹی ڈی اور امن کمیٹی کی مشترکہ کارروائی میں ایک مطلوب دہشت گرد ہلاک ہوا، اور اہل علاقہ نے دہشت گردوں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر اپنے محافظوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔

بنوں کے علاقے ہوید میں پولیس اور امن کمیٹیوں کا دہشت گردوں سے مقابلہ ہوا، جس میں دہشت گرد فرار ہو گئے۔ ڈومیل کے علاقے میں فتنہ الخوارج نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کی اطلاع پر 8 گھنٹے کے طویل آپریشن کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اس آپریشن میں بدنام زمانہ دہشت گرد کمانڈر رسول عرف کمانڈر آریانہ ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا اور اسلحہ و ایمونیشن برآمد کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ تقریرایڈٹ معاملہ: بی بی سی کا ایک اوربڑا عہدیدارمستعفی

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بنوں ریجن پولیس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز کو کامیاب آپریشنز پر خصوصی شاباش دی اور کہا کہ خیبرپختونخوا کی مٹی کو فتنہ الخوارج سے پاک کیا جائے گا اور دہشت گردوں کا ان کی خفیہ پناہ گاہوں تک پیچھا کیا جائے گا۔

Scroll to Top