صدر ٹرمپ کی ظہران ممدانی سے ملاقات میں امریکی جمہوریت کا روشن پہلو

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بہت سے لوگ نالاں رہتے ہیں لیکن ان کی کئی خوبیوں کو سب مانتے ہیں۔ وائٹ ہاوس میں ایک رپورٹر نے ظہران ممدانی سے سوال کیا کہ آپ صدر ٹرمپ کو فاشسٹ کہتے تھے، تو آپ ابھی بھی اس بات پر قائم ہیں؟ اس سوال نے ممدانی کو عارضی طور پر مشکل میں ڈال دیا لیکن صدر ٹرمپ نے مہمان کو مشکل سے نکالا اور کہا کہ کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں، بس ہاں کہہ دیں۔

یہ ملاقات امریکی سیاست کا روشن پہلو دکھاتی ہے کہ کتنے ہی بڑے اختلافات کے باوجود رہنما اپنے ملک کے لیے مخلص رہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کے دوران اپنے مہمان کے ساتھ نہ صرف مثبت رویہ رکھا بلکہ تعاون اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی بات کی۔

واشنگٹن میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ظہران ممدانی کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت رہی اور نیویارک کی بہتری کے لیے وہ مکمل معاونت فراہم کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ نو منتخب میئر نیویارک کے معاملات بہترین انداز میں چلائیں گے اور اتنا بہتر کام کریں گے کہ شہری خوش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر ممکن مدد کریں گے تاکہ شہری توقعات پر پورا اتر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ظہران ممدانی نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے؟ ٹرمپ سے ملاقات میں سب واضح ہوگیا

ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ملاقات میں کسی قسم کی گفتگو نیتن یاہو کی گرفتاری سے متعلق نہیں ہوئی۔ انہوں نے جنگ و امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج مشرق وسطیٰ میں میری وجہ سے امن قائم ہے اور میں نے دنیا میں 8 جنگیں روکی ہیں، جن میں پاک بھارت امن ڈیل بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مرکزی بینک کے افسران کے بہروپ میں آئے افراد نے کیش وین سے سات کروڑ روپے لوٹ لیے

یہ ملاقات نہ صرف امریکی سیاست میں مثبت رویے کی مثال ہے بلکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ مختلف سیاسی موقف رکھنے والے رہنما بھی اپنے ملک کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔ وائٹ ہاوس میں ٹرمپ اور ممدانی کی یہ ملاقات امریکی جمہوریت کی مضبوطی اور رہنماوں کے مخلص رویے کی عکاسی کرتی ہے۔

Scroll to Top