برطانیہ

برطانیہ میں ILR اب اعزاز ہے، حق نہیں : وزیرِ داخلہ شبانہ محمود

لندن (کشمیر ڈیجیٹل ) برطانیہ میں مستقل رہائش کے قوانین سخت، انتظار کی مدت 20 سال تک پہنچ سکتی ہےبرطانیہ میں قانونی طور پر رہنے والے تارکینِ وطن کے لیے مستقل سکونت حاصل کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہونے جا رہا ہے ۔

حکومت کی نئی مجوزہ پالیسی کے تحت مستقل رہائش کے اجازت نامے( Indefinite Leave to Remain (ILR تک رسائی کے لیے درکار مدت کو بڑھا دیا جائے گا، جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔

وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ ILR کے لیے ضروری مدت کو پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کر دیا جائے گا ۔ اس تبدیلی کا اطلاق اُن 26 لاکھ افراد پر ہوگا جو 2021 کے بعد برطانیہ آئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاں،شبانہ محمودنے تفصیلات بتا دیں

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نئے قواعد اُن افراد پر لاگو نہیں ہوں گے جنہوں نے پہلے ہی مستقل رہائش حاصل کر لی ہے ۔

شبانہ محمود کے مطابق، “برطانیہ کا مستقل حصہ بننا کوئی حق نہیں، ایک اعزاز ہے۔ اور یہ اعزاز محنت سے حاصل کرنا ہوگا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:برطانوی وزیراعظم کامساجد کو حملوں سے بچانے کیلئے 10 ملین پاؤنڈ دینے کا اعلان

”یہ قدم امیگریشن نظام سے متعلق نئی اصلاحات کے سلسلے کی تازہ پیش رفت ہے، جس کا مقصد حکومتی دعوے کے مطابق سسٹم کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بنانا ہے ۔

Scroll to Top