مظفرآباد: حکومتِ آزاد جموں و کشمیر اور پاک فوج کے اشتراک سے دارالحکومت مظفرآباد میں تین روزہ چوتھی نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کشمیر اختتام پذیر ہو گئی۔ ورکشاپ میں وکلاء، ڈاکٹرز، اساتذہ، سیاسی و سماجی کارکنان، اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
ورکشاپ کے پہلے روز سابق صدرِ ریاست و معروف سفارتکار مسعود خان نے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے ملکی اور علاقائی صورتحال، بدلتے عالمی منظرنامے، اور قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر نہایت مدلل اور بصیرت افروز گفتگو کی اور زور دیا کہ ریاستی و قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر، فعال اور دوررس پالیسی سازی ناگزیر ہے، جو کسی بھی قوم کی بقاء کے لیے لازمی ستون ہے۔
دوسرے سیشن میں سابق سفیر عبدالباسط خان نے خطے کے بدلتے جغرافیائی و اسٹریٹیجک حالات، عالمی سفارتی محرکات اور ان کے پاکستان و کشمیر پر اثرات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ ان کی گفتگو نے شرکاء کی خصوصی توجہ حاصل کی، جبکہ مقررین نے قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمتِ عملی کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی۔ سیشن کے دوران طلبہ اور پیشہ ور شرکاء نے اہم اور سنجیدہ سوالات کیے، جن کے مدلل اور تسلی بخش جوابات فراہم کیے گئے، جس سے علمی مکالمہ اور فکری استفادہ نمایاں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا حویلی، باغ ایک روزہ دورہ
ورکشاپ کے دوسرے روز شرکاء کو لائن آف کنٹرول کا خصوصی دورہ کرایا گیا۔ دورے کے دوران سیکٹر کمانڈر آئیں ایس پی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان اور سٹیشن کمانڈر نے لائن آف کنٹرول پر شرکاء کو سرحدی صورتحال، دفاعی چوکسی، آپریشنل حکمتِ عملی اور آپریشن بنیانُ المرصوص کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔ شرکاء کو ایل او سی پر پاک فوج کی ذمہ داریوں، شہری آبادی کے تحفظ کے اقدامات، جدید نگرانی کے نظام اور مشکل جغرافیائی حالات میں فرائض سرانجام دینے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔ شرکاء نے اس ورکشاپ کو انتہائی معلوماتی اور مؤثر قرار دیا۔
ورکشاپ کے آخری روز جی او سی مری میجر جنرل ضرار نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور شرکاء کو لیکچرز دیے، جن میں ریاستی نظم و نسق، گورننس، ترقیاتی ترجیحات، قومی سلامتی کے انتظامی پہلوؤں، اور جدید چیلنجز کے مقابلے کے لیے ادارہ جاتی استحکام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ جبکہ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان نے بھی شرکاء کو لیکچر دیا۔ شرکاء نے مختلف موضوعات پر سوالات کیے اور تمام جوابات اطمینان بخش اور تفصیلی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حج 2026: سرکاری حج اسکیم کے تحت عازمین کا انتخاب مکمل
اختتامی تقریب میں ورکشاپ کے تمام شرکاء کو تعریفی اسناد سے نوازا گیا۔ شرکاء نے حکومتِ آزاد کشمیر اور پاک فوج کی جانب سے ورکشاپ کے شاندار انتظامات، معیاری لیکچرز اور معلوماتی سیشنز پر بھرپور تحسین کا اظہار کیا اور کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام نوجوانوں اور پیشہ ور افراد میں فہمِ سلامتی، شعورِ ریاست اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ آئندہ بھی ایسی ورکشاپس منعقد کی جائیں، کیونکہ یہ نہ صرف فکری تربیت فراہم کرتی ہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہیں، اور قوم کے مستقبل کے لیے شعورِ سلامتی میں اضافہ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔




