مظفرآباد: آزاد کشمیر میں کانگڑی صدیوں سے سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے کا ایک لازمی ذریعہ رہی ہے۔ یہ ایک چھوٹا مٹی کا برتن ہوتا ہے، جس میں گرم انگارے ڈالے جاتے ہیں اور اسے بانس یا وِکر کی بنی ہوئی ٹوکری میں لپیٹ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اسے روایتی لباس پھیرن یا کمبل کے نیچے رکھ کر سردیوں کی شدید ٹھنڈ سے بچاؤ کرتے ہیں۔
کانگڑی صرف جسمانی گرمائش کا ذریعہ نہیں بلکہ کشمیری کلچر کا ایک اہم جزو بھی ہے۔ مقامی بازاروں میں کانگڑی کے مختلف انداز دستیاب ہیں، جو نہ صرف افادیت بلکہ جمالیاتی خوبصورتی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر ثقافتی تقریبات میں کانگڑی کا استعمال روایت کے طور پر کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا حویلی، باغ ایک روزہ دورہ
آزاد کشمیر کے سرد علاقوں میں کانگڑی کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ درجہ حرارت اکثر منفی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں کے کاریگر اسے بنانے میں مہارت رکھتے ہیں اور ہر کانگڑی میں خاص ڈیزائن اور نفاست شامل کی جاتی ہے۔ یہ ہاتھ سے تیار ہونے والی فنکاری کشمیری ثقافت کی شناخت کا حصہ ہے۔
جدید دور کے چیلنجز:
اگرچہ کانگڑی کی روایت مضبوط ہے، لیکن جدید آلات جیسے الیکٹرک ہیٹرز کے بڑھتے استعمال اور آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث یہ روایت خطرے میں ہے۔ کچھ طبی ماہرین کے مطابق کانگڑی کے طویل استعمال سے جلد پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے حفاظتی اقدامات اختیار کرنا ضروری ہیں۔
مقامی لوگ اور حکومتی ادارے اس روایت کو زندہ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ ثقافتی تقریبات میں کانگڑی کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور نئی نسل کو اس کے استعمال اور تاریخی ورثے سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف آج باغ آزادکشمیر میں دانش سکول کا سنگ بنیاد رکھیں گے
کانگڑی آزاد کشمیر کی روزمرہ زندگی اور ثقافت کا لازمی حصہ ہے۔ یہ نہ صرف سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے کا ذریعہ ہے بلکہ کشمیری ہنر اور روایت کی علامت بھی ہے۔




