قومی ادارہ صحت کی اسموگ سے متعلق ایڈوائزری جاری

اسلام آباد: قومی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسموگ سے سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، ملک بھر میں صحت کے شعبے، اتھارٹیز اور ماہرین اسموگ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔

اس انتباہ کا مقصد شہریوں کو موسمی حالات، فضائی آلودگی اور اس سے جڑے خطرات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرسکیں۔

نجی نیوز چینل کے مطابق قومی ادارہ صحت نے اسموگ (فضائی آلودگی) سے بچاؤ اور احتیاطی اقدامات کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کردی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال اور فضا میں آلودگی کے باعث اسموگ کے اثرات میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سرد موسم میں ’اسموگ‘ رواں ماہ سے فروری تک انسانی صحت کو شدید متاثر کرسکتی ہے، اور فضا میں زہریلے مادے اور سردی مل کر نمونیا کی بیماری پھیلانے کا سبب بنے گی۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اسموگ کے دوران نمونیا، سانس اور دیگر موسمی بیماریوں میں اضافہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی ائیرپورٹ پر مسافروں کی آمد کا نیا ریکارڈقائم، پاکستانیوں کا چوتھا نمبر

اسموگ کے نقصانات کے حوالے سے جاری کردہ ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ اسموگ سے صحت، معیشت اور معیار زندگی کو شدید متاثر ہو گی، اور اسموگ سے ماحولیاتی آلودگی سانس اور دل کی بیمار یوں سمیت کئی طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کے دوران نہ صرف سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ کمزور افراد کے لیے یہ صورت حال مزید خطرناک بن جاتی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق فضائی آلودگی سے بچوں، معمر افراد اور پہلے سے بیمار کو زیادہ خطرہ ہے۔ ایسے افراد جنہیں پہلے ہی صحت کے مسائل لاحق ہیں، انہیں خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔

قومی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ پنجاب کے شہر لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد کو اسموگ کے زیادہ خطرات ہیں، بالخصوص لاہور میں فضائی آلودگی سب سے زیادہ ہے جہاں شہریوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے بیرونی سرگرمیوں میں محتاط رہنے کا کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ڈیٹا چوری، ہیکنگ سے محفوظ موبائل فون تیار کر لیا گیا

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں صحت کے شعبے، اتھارٹیز اور ماہرین اسموگ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں، بچوں کو زیادہ دیر باہر رہنے سے اجتناب برتنا چاہیے، مثاثرہ علاقوں میں بڑے اور بچے فیس ماسک کا استعمال کریں۔ یہ اقدامات اسموگ کے دوران صحت کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری قرار دیے گئے ہیں۔

Scroll to Top