آزادکشمیرپولیس نے کئی بار قانون کو چکمہ دینے والا اشتہاری مجرم دبئی سے گرفتارکر لیا

مظفرآباد:آزادکشمیر پولیس نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے قتل کے مقدمے میں مطلوب سزایافتہ اشتہاری مجرم کو انٹرپول کے ذریعے دبئی سے گرفتار کر لیا ۔

مجرم راجہ جاوید ولد راجہ علی اصغر ساکنہ تل پترا نڑاں حلقہ کھاوڑہ نے 27 سال قبل 1998 میں جائیداد کے تنازع پر آبائی گائوں تل پترا نڑا میں ایک نوجوان شکیل ولد عبدالرشید کو بے دردی سےفائرنگ کرکے قتل جبکہ مقتول کی ہمشیرہ کو شدید زخمی کردیا تھا جو عمر بھر کے لئے معذور ہوگئی۔

واقعات کے مطابق ملزم قتل کے فوری بعد 1998 میں ہی گرفتار ہوا سست ترین انصاف کے نظام کی وجہ سے دو سال تک شہادتیں مکمل نہ ہوئیں تو ملزم کے وکیل نے ملزم کو اس وقت جاری ایک سرکلر سے استفادہ دلوایا جس کے تحت قتل کے ملزم کا اگر دو سال میں ٹرائل مکمل نہ ہوسکے تو وہ ضمانت لے سکتا ہے۔

مجرم رہا ہوا مگر جب اسے علم ہوا کہ شہادتیں مکمل ہوچکیں اور سزائے موت یقینی ہے تو ملزم خیبر پختونخوا کے علاقے کالا ڈھاکہ فرار ہوگیا ، 2000 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفرآباد نے راجہ جاوید کو قتل ثابت ہونے پر مجرم قرار دیکر عدم حاضری میں ہی سزائے موت سنائی۔

مجرم مفرور تھا ہائی کورٹ میں 90 روز کے اندر اپیل سے بھی محروم رہا تاہم مجرم طویل روپوشی کے بعد چپکے سے اپنے آبائی گھر واپس آگیا پولیس نے اطلاع پر دوسری بار گرفتار کرکے جیل پہنچا دیا مگر فوری سزا پر عملدرآمد نہ ہوسکا اور مجرم 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے میں سینٹرل جیل مظفرآباد سے قومی سانحہ کی وجہ سے نکل آیا ۔

عدالت العالیہ کی جانب سے 2006 میں ملزمان کو واپس جیل حاضر کرنے کے احکامات آئے مگر مجرم جاوید قانون کی گرفت میں نہ آسکا ،پولیس کے مطابق مجرم 3 بار جیل گیا اور تینوں بار کسی نہ کسی کمزور قانونی شق کا سہارا لے کر نکلتا رہا اور ہر بار مفرور ہوجاتا۔

یہ بھی پڑھیں: غیرقانونی مقیم افغان باشندوں کی گرفتاری کا حکم، ٹاسک فورس قائم

27 سال میں مجرم راجہ جاوید کی گرفتاری کے لئے مجموعی طور پر 55 چھاپے مارے گئے، مجرم راجہ جاوید نے 2011 کی انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اسمبلی چوہدری لطیف اکبر پر قاتلانہ حملہ بھی کیا، انکی گاڑی پر گولیاں لگیں تاہم وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔

دوسری بار مجرم ایس ایچ او راجہ سہیل کے ہی ہاتھوں راولپنڈی سے گرفتار ہوا ، جبکہ 2014 میں تیسری بار گرفتار ہوا اور 7 سال سینٹرل جیل میں قید رہا مگر قانونی پیچیدگیوں اور سست عدالتی نظام کے باعث مجرم کو اس بار بھی تختہ دار پر لٹکایا نہ جاسکا ۔

تیسری بار پھر کورونا وبا کا فائدہ اٹھا کر جن قیدیوں کو 2021 میں عارضی رہائی ملی ان میں اس سنگین ترین متعدد مقدمات کے اشتہاری وقاتل مجرم کو بھی استثنی مل گیا(حالانکہ یہ سہولت صرف سزائے موت کے قیدیوں کے لئے نہ تھی) مجرم نے رہا ہونے کے بعد کورونا سیزن کے اختتام پر واپس جیل جانے کے بجائے پھر راہ فرا اختیار کی۔

پولیس نے جب گرفتاری کے لئے اس کے گھر چھاپہ مارا تو مجرم نے فائرنگ شروع کردی پولیس کے ساتھ مقابلے کے دوران ہی خفیہ راستے سے فرار ہوکر اٹک پہنچ گیا جہاں سے پاسپورٹ بنوا کر متحدہ عرب امارات فرار ہوگیا حکومت نے بھی مجرم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی کوئی تحریک نہ کی ۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی کشمیریوں کیخلاف مہم، اترپردیش سے ایک اور ڈاکٹرگرفتار

آزادکشمیر پولیس کو جب مجرم راجہ جاوید کی دبئی میں موجودگی کی اطلاع ملی تو وزیراعظم آزادکشمیر اور وزیر داخلہ کی منظوری سے انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر رانا عبدالجبار کی ہدایت پر ڈی آئی جی یااور ایس ایس پی مظفرآباد نے انٹرپول سے رابطہ کرکے مجرم راجہ جاوید کے ریڈ وارنٹ جاری کروا کر پہلے دبئی سے گرفتار کروایا ۔

ڈی ایس پی مظفرآباد راجہ فیصل شفیق کی قیادت میں سینئر ترین انسپکٹرز راجہ سہیل خان اور راجہ زاہد عمر خان پر مشتمل ٹیم دبئی روانہ کی اور مجرم کو دبئی پولیس سے تحویل میں لے کر دبئی ایئر پورٹ تک خصوصی سیکورٹی میں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر لایا گیا اور سینٹرل جیل مظفرآباد منتقل کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مجرم 8ماہ دبئی کی جیل میں بھی قید رہا،قابل ذکر بات یہ ہے کہ مجرم راجہ جاوید کی طرف سے مقتول پارٹی پر صلح کے لئے بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا مگر مقتول شکیل کی والدہ مسمات ریشمی بی بی نے کروڑوں روپے کی آفرسمیت ملزم پارٹی کی کسی جرگے کو نہیں مانا اور ہائی کورٹ تک مجرم کا پیچھا کیا تاہم 2021 میں مقتول شکیل کی والدہ بھی اپنے بیٹے کے قاتل کو تختہ دار پر چڑھائے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئیں۔

Scroll to Top