اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) قومی ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کے گرد گھیرا تنگ، نئی قانونی مشکلات میں پھنس گئے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے سابق کرکٹر وسابق کپتان راشد لطیف کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ۔
ترجمان کے مطابق راشد لطیف پرسٹے بازی میں ملوث ہونے، غیر ملکی جوا کمپنیوں سے ممکنہ روابط رکھنے اور ملکی کرکٹ اداروں پرمبینہ طور پر بے بنیاد الزامات لگانے جیسے سنگین الزامات کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
ترجمان NCCIA کے مطابق راشد لطیف کے خلاف اسلام آباد اور لاہور میں دو الگ الگ انکوائریز جاری ہیں، جن کے تحت متعلقہ ٹیمیں شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں۔
ایجنسی نے بتایا کہ دونوں انکوائریز میں راشد لطیف نے اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرا دیا ہے، جو تحقیقات کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:قومی کرکٹرز کو بین الاقوامی لیگز میں شرکت کیلئے این او سی جاری
مزید کہا گیا ہے کہ NCCIA کی جانب سے راشد لطیف کو باقاعدہ سوالنامہ بھی فراہم کر دیا گیا ہے
اس سوالنامے میں ان سے سٹے بازی، آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارمز سے ممکنہ تعلقات اور ان کے حالیہ بیانات سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کا تکنیکی اور قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔
سابق کرکٹر کی جانب سے الزامات کی تردید متوقع ہے، جبکہ کرکٹ حلقوں میں اس پیش رفت نے نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ۔
راشد لطیف کے بیانات محض تنقید تھے یا ان کے پیچھے کوئی اور مقاصد۔ NCCIA کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے پر مزید پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔




