کنوارے مرد و خواتین کے لیے ایک دلچسپ اور اہم اطلاع سامنے آئی ہے، جس کے مطابق وہ نوجوان جو رواں سال 31 دسمبر تک شادی کریں گے انہیں چین کی مقامی حکومت کی جانب سے نقد انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان نے ان نوجوانوں کی توجہ حاصل کی ہے جو شادی کے بڑھتے اخراجات یا معاشی دباؤ کے باعث اس فیصلے میں تاخیر کرتے ہیں۔
شادی زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوتی ہے، مگر کئی ممالک میں نوجوان بھاری اخراجات، ذمہ داریوں اور مہنگائی کی وجہ سے شادی سے ہچکچاتے ہیں۔ انہی ممالک میں چین بھی شامل ہے، جہاں کچھ برس قبل تک ایک فیملی اور ایک بچے کی پالیسی رائج تھی، مگر اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور حکومت شادی شدہ جوڑوں کو مختلف مراعات کی پیشکش کر رہی ہے۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو شادی، خاندان اور بچوں کی جانب راغب کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں چلغوزہ سستا ہونے کی اصل وجہ سامنے آ گئی
اسی سلسلے میں چین کے مشرقی شہر ننگبو میں حکومت نے نوجوان جوڑوں کے لیے نقد انعامی واؤچرز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق وہ تمام جوڑے جو نومبر سے 31 دسمبر کے درمیان اپنی شادی رجسٹر کرائیں گے، حکومت کی جانب سے شادی کے اخراجات کے لیے نقد واؤچر حاصل کر سکیں گے۔
ننگبو کے محکمہ شہری امور نے اکتوبر کے آخر میں اپنے سرکاری وی چیٹ پیج پر اعلان کیا کہ نوبیاہتا جوڑوں کو آٹھ واؤچرز فراہم کیے جائیں گے، جن کی مجموعی مالیت 1,000 یوآن ہے، جو تقریباً 40 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق یہ واؤچرز شادی سے متعلق کئی اخراجات پر خرچ کیے جا سکتے ہیں، جن میں شادی کی فوٹو گرافی، شادی کی تقریبات، جشن، ہوٹل میں قیام، خوردہ خریداری اور دیگر شادی سے منسلک خدمات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد سے ملاقات،دنیا کو 8 بڑے بحرانوں سے بچایا :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
مزید یہ بھی وضاحت کی گئی کہ ان واؤچرز کی تعداد محدود ہے اور یہ صرف پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں گے، لہٰذا وہ لوگ جو اس مدت میں شادی رجسٹر کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں جلد از جلد اس سہولت سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔




