خرم منظور

شاداب خان کو کپتان بنانے کی کوششیں : خرم منظور کا بڑا دعویٰ

سابق ٹیسٹ کرکٹر خرم منظور نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی آل راؤنڈر شاداب خان کو کپتان بنانے کے لیے ماحول ہموار کیا جارہا ہے جو ان کے خیال میں درست فیصلہ نہیں ہے ۔

نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کے دوران خرم منظور کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس دو باصلاحیت نوجوان کھلاڑی موجود ہیں جنہیں مناسب سپورٹ فراہم کی جائے تو وہ آئندہ ورلڈ کپ کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوسکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ’’عبدالصمد اور معاذ صداقت ایسے کھلاڑی ہیں جو چھٹے اور ساتویں نمبر پر آکر میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ معاذ نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں اچھی کارکردگی دکھائی جبکہ عبدالصمد کی پرفارمنس بھی سب کے سامنے ہے ۔

خرم منظور نے ٹیم کمبی نیشن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حسن علی اس کی بہترین مثال ہیں جو پرفارم کرکے واپس آئے مگر انہیں بینچ پر بٹھا کر دوبارہ ٹیم سے باہر کردیا گیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ سری لنکا میں ہونا ہے، جہاں کی پچز اور کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے چند کھلاڑیوں میں ردوبدل کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔ وہاں بابر اعظم اور محمد رضوان لازمی ہوں گے، جبکہ تیسرا کھلاڑی سلمان علی آغا ہوسکتے ہیں، اگر وہ اس وقت تک کپتان رہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی کرکٹ بورڈ کو بڑا جھٹکا ، ایک اور بین الاقوامی ٹیم کا بھارت میں کھیلنے سے انکار

خرم منظور نے ٹی20 ٹیم کی قیادت کے لیے شاہین شاہ آفریدی کی حمایت کی اور کہا کہ وہ اپنی کارکردگی کے ذریعے پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کو دو مرتبہ چیمپئن بنا چکے ہیں ۔

شاداب خان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں کپتان بنانے کی کوشش دکھائی دے رہی ہے۔  ہوسکتا ہے میں غلط ہوں، مگر ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ شاداب نے کیمپ جوائن کرلیا ہے لیکن وہ اتنا بڑا کھلاڑی نہیں کہ بغیر مکمل فٹنس کے سیدھا ٹیم میں آجائے۔ میں نے انضمام الحق جیسے بڑے کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر کم بیک کرتے دیکھا ہے ۔‘‘

انہوں نے کہا کہ شاداب خان کو چاہیے کہ وہ قائد اعظم ٹرافی میں جا کر پہلے پرفارم کریں اور اپنی فارم بحال کریں ۔

Scroll to Top