مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا، جس کی صدارت اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی چوہدری قاسم مجید نے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کی۔ اس موقع پر چوہدری قاسم مجید نے راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا نام بطور قائد ایوان پیش کیا۔ اپوزیشن کے اراکین سردار عبدالقیم نیازی اور خواجہ فاروق احمد بھی ایوان میں پہنچ گئے اور اجلاس میں شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے سیکیورٹی بنیاد پر بند کر دی
ایوان میں تتہ پانی بم دھماکے اور اسلام آباد بم دھماکے میں شہداء کے لیے دعائیں اور مغفرت بھی کی گئی۔ سپیکر اسمبلی نے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کو خطاب کے لیے مدعو کیا، جس پر وزیراعظم نے ایوان میں اپنا موقف پیش کیا۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے خطاب میں کہا کہ ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص ہی آئین اور انتظامی ڈھانچے کی تباہی کا ذمہ دار ہے، کیا میری کابینہ کے ممبران اس کے ذمہ دار نہیں۔ یہ خطاب میں اس لیے کر رہا ہوں کہ یہ باتیں ریکارڈ پر رہیں۔ اس ایوان نے مجھے جنم دیا، مجھے اس کے قتل کا خیال کیوں آنا چاہیے۔ آج ان سب کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر آج ووٹنگ ہوگی
انہوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے اسی ایوان سے کہا گیا کہ پندرہ فروری تک اسمبلی تحلیل کر دو، میں چاہتا تو اس پر مان جاتا پھر مجھے کوئی نکال سکتا تھا۔ میں اپنی پوری کابینہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری آزادی کے پروانے پر دستخط کیے۔ مجھے کہا گیا آپ کو بکتر بند گاڑی پر لے کر جاتے ہیں، میں نے کہا کہ سیاسی کارکن ہوں، مجھے اپنے عوام میں جانے کیوں روکا جا رہا ہے۔ ایکشن کمیٹی کی تحریک میں اگر یہاں قتل عام ہوتا تو میں کس منہ سے جواب دیتا۔ الحمداللہ آج میں یہاں سے سرخرو جا رہا ہوں۔‘‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’’میں نے بارہا کہا کہ میری موجودگی میں تقسیم کشمیر کا کوئی فارمولہ نہیں ہو سکتا۔ اگر مہاجرین کی نشستوں کو ختم کرنے پر دستخط کرتا تو میری سیاسی موت تھی۔ میں یہاں سے مودی کو بھی للکارا اور اس کو میں نے فتنہ خوارج نہیں فتنہ ہندوستان کہا، پھر اس کو فتنہ ہندوستان کہا گیا۔ یہ سیاسی نظام تب بچے گا جب ہماری سرحدیں محفوظ ہوں گی۔ مسلح افواج پاکستان کی قوت موجود نہ ہو تو پھر کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد میں میرے ان خیالات کو نظریاتی بگاڑ کہا گیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’لوگ کہتے ہیں میری کسی سختی کی وجہ سے بیوروکریٹ کو کوئی تکلیف ہے، مجھے تو ان کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ آزاد کشمیر کی عدلیہ کا، وکلا کی تنظیموں کا، صحافیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگر فیصل ممتاز راٹھور کا انتخاب ہوتا تو میں اپنا ووٹ اس کو ڈالتا کیونکہ میں نے اس سے ووٹ لیا تھا۔ میری نیک تمنائیں اس کے ساتھ ہیں، میری اس بلواسطہ حمایت حاصل ہے۔ آزاد کشمیر عوام کے قتل کی کوئی موو ہوگی تو ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔‘‘
انوار الحق اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ایوان سے باہر چلے گئے۔اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔




