بنگلا دیش میں اس وقت ایک اہم اور غیر معمولی عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بنگلادیشی عدالت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے نے ملک کی سیاسی فضا کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ مقدمے کا فیصلہ سنانے کے بعد سزائے موت کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔
بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف دائر مقدمات کا فیصلہ سنایا۔ ٹربیونل نے جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں تشکیل دیے گئے تین رکنی بینچ کے ذریعے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے تحت مجرم قرار دیا گیا، جس کے بعد سزائے موت کا حکم جاری ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: بھارتی عمرہ زائرین کی بس خوفناک حادثے کا شکار، 42 افراد جاں بحق
ٹربیونل نے مقدمے کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا جو مجموعی طور پر 453 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس تفصیلی فیصلے میں شیخ حسینہ واجد کے خلاف عائد تمام الزامات کا ذکر شامل ہے اور انہی الزامات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا سنانا ضروری ہے۔
بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق شیخ حسینہ کے خلاف مقدمہ انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق تھا، اور استغاثہ نے پہلے ہی عدالت سے سزائے موت کی درخواست کی تھی۔ اسی بنیاد پر فیصلہ سناتے ہوئے ٹربیونل نے استغاثہ کے مؤقف کو تسلیم کیا اور شیخ حسینہ کے لیے سزائے موت کے حکم کی توثیق کر دی۔
عدالتی فیصلے کے وقت ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ بنگلادیشی حکام نے صورتحال کے حساس ہونے کے باعث ممکنہ ردِعمل کے پیش نظر اضافی نفری تعینات کی۔ اس دوران خصوصی طور پر ان مقامات پر سکیورٹی بڑھائی گئی جہاں فیصلے کا اثر فوری طور پر نمایاں ہونے کا خدشہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ائیر شوایوی ایشن مارکیٹ میں ہلچل مچانے کو تیار ، پاکستانی پائلٹس مرکز نگاہ بن گئے
شیخ حسینہ واجد پر یہ الزام بھی عائد تھا کہ انہوں نے 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان احکامات کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں، جن کی وجہ سے ان کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات درج کیے گئے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 کے مظاہروں میں مجموعی طور پر 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہی واقعات کو بنیاد بنا کر استغاثہ نے مقدمہ چلایا اور عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیخ حسینہ کو مجرم قرار دیا۔




