اوکاڑہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے اس خبر کی مکمل تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پنجاب کے علاقے اختر آباد میں داعش خراسان کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ہلاک کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تمام اطلاعات غلط قرار دی گئی ہیں۔
یہ دعویٰ اس وقت زیر بحث آیا جب سابق امریکی سفیر زلمی خلیل زاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر غیر مصدقہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ داعش خراسان کے ایک کمانڈر جن کا نام برہان عرف زید بتایا گیا کو اختر آباد میں مارا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر موضوع نے تیزی سے توجہ حاصل کی اور مختلف حلقوں نے اس پر اپنی رائے دینا شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور جھوٹ پر مبنی کتاب شائع ؛ پاکستان کیخلاف بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب
پاکستانی حکام نے وضاحت کی کہ اس خبر کی بنیاد المِرساد نامی ویب سائٹ کی وہ رپورٹ تھی جو طالبان سے منسلک ایک اینٹی آئی ایس آئی ایس کے پروپیگنڈا پلیٹ فارم کے طور پر جانی جاتی ہے اور اس ویب سائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش خراسان پنجاب میں موجود ہے اور مبینہ ہلاکت کو مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی قرار دیا گیا تھا جبکہ حکام کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت کے خلاف ہے اور اس کا مقصد پاکستان کے بارے میں ایک غلط تاثر پیدا کرنا تھا جس میں سرحد پار سے داعش خراسان کی موجودگی کو پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
ڈی پی او اوکاڑہ نے واضح کیا کہ اختر آباد میں کوئی آپریشن کوئی مقابلہ اور کوئی سیکیورٹی واقعہ پیش نہیں آیا اور ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تمام رپورٹس مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر مصدقہ معلومات غیر ضروری خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں اور سیکیورٹی صورتحال سے متعلق غلط فہمیاں بڑھاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہلی دھماکے:ارنب گوسوامی نے اپنی حکومت پر سنگین سوالات اٹھادیے
پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ملک میں مکمل چوکنا ہیں جبکہ اس طرح کا پروپیگنڈا نہ صرف عوام میں بے یقینی پھیلاتا ہے بلکہ خطے میں پاکستان کے کردار کے بارے میں غلط تاثرات اجاگر کرنے کی کوشش بھی ہے۔




