انتظامی

آزادکشمیر میں کتنے وزرائے اعظم کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا؟

سخاوت سدوزئی
آزاد جموں وکشمیر میں تحریک عدم اعتماد کی کہانی حالیہ نامزد امیدوار قائد ایوان راجا فیصل ممتاز راٹھور کے والدپاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں کشمیر کے بانی رہنماء ممتاز حسین راٹھور سے شروع ہوئی۔

29 جون 1990 ء کو پیپلز پارٹی کی نامزدگی پر منتخب ہونے والے ممتاز حسین راٹھور کے خلاف اپنی ہی پارٹی کےاراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کی کوشش ہوئی۔

ممتاز حسین راٹھور نےاقتدار کے 9ماہ بعدتحریک کی بازگشت کے ساتھ حاصل اختیارات کے تحت اسمبلی ہی توڑ دی۔نہ رہا بانس اور نہ بجی بانسری،پہلی تحریک عدم اعتماد لفظی گولہ باری تک ہی محدود رہی۔

دوسری بارمسلم کانفرنس کے منتخب رکن اسمبلی و قائد ایوان سردار عتیق احمد خان کے خلاف کرپشن،بیڈ گوررننس،اقرباء پروری ،آئین و قانون کی خلاف ورزی اختیارات کا ناجائز استعمال جیسے الزامات کے ساتھ ان کی پارٹی مسلم کانفرنس کے فاروڈ بلاک کے اراکین نے 2009 ء میں پہلی تحریک عدم اعتماد باقاعدہ جمع کروائی۔

پیپلز پارٹی کی حمایت کے ساتھ فرینڈز گروپ کے آزاد حیثیت سے سردار محمد یعقوب خان منتخب رکن اسمبلی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے ساتھ 7 جنوری 2009 کوقائد ایوان منتخب ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: نامزد وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اسلام آباد پہنچ گئے، اہم ملاقاتیں

اکتوبر 2009 ء میں ہی ان کے خلاف بھی ریاستی تاریخ میںدوسری تحریک عدم اعتماد مختلف الزامات کے ساتھ جمع کروائی گئی۔

سردار یعقوب خان کے خلاف مسلم کانفرنس کے فارورڈ بلاک اور مسلم کانفرنس کے عتیق گروپ نے مشترکہ تحریک عدم اعتماد جمع کروائی۔ سردار یعقوب خان عہدے سے مستعفی ہوئے اور 22 اکتوبر 2009 ء کوراجا فاروق حیدر وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر منتخب ہوگئے۔

میوزیکل چیئراسمبلی کا جی نہیں بھرا تو فاروق حیدر کی حمایت کرنے والا مسلم کانفرنس کاگروپ پھر سے باغی ہوگیا۔ جولائی 2010ء میں راجا فاروق حیدر پر بھی اداروں میں مداخلت،کرپشن جیسے سنگین الزامات لگاکرتیسری تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی۔

فاروق حیدرنے عہدہ سے استعفا دیا صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان پیپلز پارٹی کے اراکین کی مدد سے 34 ووٹ لیکر دوسری بارقائد ایوان منتخب ہوگئے۔

26 جولائی 2011ء قائد ایوان منتخب ہونے والےپیپلز پارٹی کے صدرووزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے خلاف ریاستی تاریخ میں ان ہی کی پارٹی کے بیرسٹر سلطان گروپ کی جانب سے کشمیر لبریشن سیل میں خرد برد سمیت دیگر سنگیں الزامات کے ساتھ ریاست کی تاریخ کی چوتھی تحریک عدم اعتماد 2013ء میں جمع کروائی گئی۔

تحریک عدم اعتماد کو ن لیگ کے ممبران کی سپورٹ حاصل تھی جس پر اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے ممبران کو چوہدری عبدالمجید کیخلاف ووٹ کے استعمال سےروک دیااور یوں یہ تحریک ایوان میں پیش ہونے سے قبل ہی واپس لے لی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: تتاپانی واقعہ : وزیراعظم انوارالحق کا نوٹس، فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم

پانچویں تحریک عدم اعتماد اگست 2021 ء کو پاکستان تحریک انصاف کے وزیر اعظم عبد القیوم نیازی پران کی اپنی پارٹی کی جانب سے کرپشن،بیڈ گورننس، اقرباء پروری مسئلہ کشمیر اجاگر نہ کرنے کےسنگین الزامات کے ساتھ جمع کروائی گئی۔

تحریک پیش ہونے سے قبل عبد القیوم نیازی عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ریاستی تاریخ میں سردار یعقوب،راجا فاروق حیدر ،عبدا القیوم نیازی اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش ہونے سے قبل ہی عہدے سے مستعفی ہوتے رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی فارورڈ بلاک نے 20 اپریل 2023ء کومشترکہ طور پر منتخب کردہ وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف ریاستی تاریخ میں چھٹی بار تحریک عدم اعتماد انتشاری طرز سیاست،سیاسی بیانیہ آئینی و نظریاتی کشمکش کے الزمات کے ساتھ ,14 نومبر2025ء کو تحریک عدم اعتماد جمع کروائی۔

دلچسپ بات یہ ہے چوہدری انوار الحق نے اسمبلی توڑی اور نہ عہدے سے تاحال مستعفی ہوئے۔چوہدری انوار الحق تحریک کا مقابلہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔آج دن کو سہہ پہر تین بجے تحریک پر رائے شماری کرائی جائے گی۔

تحریک کی کامیابی کی صورت میں متبادل قائد ایوان فیصل ممتاز راٹھور آزاد جموں کشمیر کے نئے قائد ایوان منتخب ہوجائیں گے۔

Scroll to Top